حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 96
چلتا ہے وہ یہ کہ ایک آدمی دوسروں کیلئے اپنے مال یا اپنے وقت یا اپنی جان کو قربان کرتا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں۔کہ لڑائیوں میں ادنیٰ اعلیٰ پر قربان ہوتے ہیں سپاہی قربان ہوتے جائیں مگر افسر بچ رہے۔پھر افسر قربان ہوتے جائیں اور کمانڈر انچیف کی جان سلامت رہے۔مگر پھر کئی کمانڈر انچیف بھی ہلاک ہو جاویں مگر بادشاہ بچ رہے۔غرض قربانی کا سلسلہ دُور تک چلتا ہے اس پر بعض ہندو جو ذبح اور قربانی پر معترض ہیں ان سے ہم نے خود دیکھا کہ جب کسی کے ناک میں کیڑے پر جاویں تو پھر ان کو جان سے مارنا کچھ عیب نہیں سمجھتے بلکہ ان کیروں کو مارنے والے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔شکریہ کے علاوہ مالی خدمت بھی کرتے ہیں۔پھر اس سلسلہ کائنات سے آگے اگلے جہان کیلئے بھی قربانیاں ہوتی رہتی ہیں۔اگلے زمانہ میں دستور تھا کہ جب کوئی بادشاہ مرتا تو اس کے ساتھ بہت سے معززین کو قتل کر دیا جاتا تا اگلے جہان میں بھی اس کی خدمت کر سکیں حضرت ابراہیم علیہ السلام جس ملک میںتھے شام اس کا نام تھا وہاں آدمی کی قربانی کا بہت رواج تھا اﷲ نے انہیں ہادی کر کے بھیجا اور اﷲ نے ان کو حقیقت سے آگاہ کیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رؤیا میں دیکھا جب کہ انکی ۹۹ سال کی عمر تھت کہ مَیں بچّہ کو قربان کروں ایک ہی بیٹا تھا۔دوسری ( طرف) اﷲ کا وعدہ تھا۔کبھی مردم شماری کے نیچے تیری قوم نہ آئے گی۔ادھر عمر کا یہ حال ہے اور بچہ چلنے کے قابل ایک ہی ہے اسے حکم ہوتا ہے کہ ذبح کر دو۔رؤیا کا عام مسئلہ ہے اگر کوئی شخص انے بیٹے کو ذبح کرتے ہوئے دیکھے تو اس کی بجائے کوئی بکرا وغیرہ ذبح کر دے۔اسی طرح یہاں لوگوں کو کہا مَیں بیٹے کو ذبح کرتا ہوں مگر وحی الہٰی سے حقیقت معلوم ہوئی کہ مُنبہ ذبح کرنا چاہیئے۔پس لوگوں کو سمجھایا کہ اے لوگو! تمہارے بزرگوں نے جو کچھ دیکھ کر انسانی قربانی شروع کی اس کی حقیقت بھی یہی ہے کہ آدمی کی قربانی چھوڑ کر جانور کی قربانی کی طرف توجّہ کرو۔اس کی برکت یہ ہوئی کہ ہزاروں بچّے ہلاک ہونے سے بچ گئے کیونکہ انہیں ادنیٰ کو اعلیٰ پر قربان کرنے کا سبق پڑھا دیا گیا۔یہ قربانی کا سلسلہ پرندوں چرندوں درندوں میں بھی پایا جاتا ہے پھر دنیوی سلطنتوں میں … ادنیٰ محبوبوں کو اعلیٰ محبوبوں پر قربان کرنے کا نظارہ ہر سال دیکھتا ہوں اس لئے ادنیٰ محبّت کو اعلیٰ محبّت پر قربان کرتا ہوں مثلاً سڑک ہے جہاں درخت بڑھانے کا منشاء ہوتا ہے وہاں نیچے کی شاخوں کو کاٹ دیتے ہیں پھر درخت پر پھول آتا ہے اور وہ درکت متحمل نہجیں ہو سکتا تو عمدہ حصّے کیلئے ادنیٰ کو کاٹ دیتے ہیں میرے پاس ایک شخص سردہ لایا اور ساتھ ہی شکایت کی کہ اس کا پھل خراب نکلا۔مَیں نے کہا قربانی نہیں ہوئی۔چنانچہ دوسرے سال جب اس نے زیادہ پھلوں اور کراب صودوں کو کاٹ دیا تو اچھا پھل آیا۔لوگ جسمانی چیزوں کیلئے تو اس قانون پر چلتے ہیں مگر روحانی عالم میں اس کا لحاظ نہیں کرتے۔اور اصل غرض کو نہیں دیکھتے…جو قربانی کرتا اﷲ اس پر خاص فضل کرتا ہے۔اﷲ اسکا ولی بن جاتا ہے پھر اُسے محبّت