حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 95 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 95

وہ انعامات کے وقت اگر شکر کرتا ہے تو ارشادب الہٰی سے۔اگر مصائب پر صبر کرتا ہے تو رضاء الہٰی کیلئے۔وہ اپنے اور دوسرے کے معاصی پر اس لئے ناراض ہوتا ہے کہ اسکا مولیٰ ان باتوں پر ناراض ہے۔وہ مُشرکوں بے ایمانوں شریروں پر تلوار اٹھاتا ہے مگر الہٰی ہتھیار بن کر۔یہی قُربانی ہے جس کے بارے میں ارشاد ہے۔ ۔جب ان دونوں نے قربانی دی۔آخر ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی ردّ ہوئی۔اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا۔اس نے کہا۔اﷲ متّقیوں کی قُربانی قبول کیا کرتا ہے۔دوسری انسانی قربانی جس کو اسلام نے جائز رکھا ہے جو انانِ قوم اور مدّبر انِ ملک کی قربانی ہے مگر اس وقت کے بڑے بڑے سیاسی بلاد یوروپ و امریکہ۔ہاں عام بلاد کا ذکر کیوں کریں۔خود انگلستان نے میری ذرہ سی شخصی زندگی میں جہاں انڈیا۔کابل۔پنجاب۔دہلی کے غڈر۔سوڈان۔خرطوم۔ٹرانسوال اور صومالی لینڈ وغیرہ جزائر میں صرف تجارت یا یوں کہو حکومت کیلئے لاکھوں نیئر اور ڈیئر ؎ قربانی کئے ہیں تو وہاں اَنْ تراشے گلوں نے اپنے ملک و قوم کو تو دنیا کے پراط پر سے کیا گزارا۔دنیا کی جنّت میں پہنچا دیا ہے اور وید کی تعلیم نے تو ہزار ہا منتروں میں اس نرمیدہ انسان ی قربانی کی تاکید لکھی ہے۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۴۲، ۱۴۳) اولادِ آدم (یہاں اس امر سے بحث نہیں کہ کتنے آدم گزرے ہیں۔بہر حال ایک آدم کی اولاد) نے قربانی کی۔قربانی کہتے ہیں اﷲ کے قُرب کے حصول اور اس میں کوشس کرنے کو۔میرا ایک دوست تھا اُسے کبتروں کا بہت شوق تھا۔شاہ جہان پور سے تین سو روپے کا ایک جوڑا منگوایا اُسے اڑا کر تماشہ کر رہا تھا کہ ایک بحری نے اس پر حملہ کیا اور اسے کاٹ دیا۔مَیں نے کہا دیکھو یہ بھی قربانی ہے باز ایک جانور ہے اس کی زنگی بہت سی قربانیوں پر موقوف ہے۔اسی طرح شیر ہے اس کی زندگی کا انحصار کئی دوسرے جانوروں پر ہے۔بلّی ہے اس پر چوہے قربان ۱؎ NEAR AND DEAR ( قریبی اور عزیز)۔مرتّب ہوتے ہیں۔پھر پانی میں ہم دیکھتے ہیں کہ مچھلیوں میں بھی یہ طریق قُربانی جاری ہے۔وہیل مچھلی پر ہزروں مچھلیوں کو قُربان ہونا پڑتا ہے۔اسی طرح اژدہا ہے کہ جس پر مُرغا قربان ہوتا ہے۔عرض اعلیٰ ہستی کیلئے ادنیٰ ہستی قربان ہوتی رہتی ہے۔اسی طرح انسان کی خدمت میں کس قدر جانور لگے ہوئے ہیں۔کوئی ہل کیلئے۔کوئی بگھیوں کیلئے۔کوئی لذیذ غذا کیلئے۔پھر اس سے اوپر بھی ایک سلسلہ