حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 94 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 94

انکی مثل ایسی ہے جیسے کوئی پتھر پر مٹی بچھا کر تخم ریزی کرے۔بارش آئے وہ کھیتی کو مع زمین بہالے جائے اور صاف چٹیل چھوڑ جائے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۵؍ اگست ۱۹۰۹ء) اسلام نے کن قربانیوں کو جائز رکھا ہے؟ سو اوّل انسان قربانی کا ذکر کرتے ہیں۔مگر قبل اسکے کہ اس کا بیان کریں قربانؔ کے لفظ کی جس سے قربانی کا لفظ نکلا ہے۔تشریح کرتے ہیں۔سُنو! اس لفظ قربان کے لُغت عرب میں کیا معنی ہیں۔قَرُبَ الشَیْیِئَ قُرْبَانًا: خوب ہی نزدیک ہوئی یہ چیز۔اَلْقُرْبَانُ بِالضَّمِّ مَاقَرُب اِلَی اﷲِ وَمَا تنقَرَّبْتَ بِہٖ۔قربان پیشؔ کے ساتھ جو اﷲ کی طرف نزدیک کرے۔وَالْقُرْبَانُ جَلِیْسٌ اَوْخَاصَّتُہٗ: قربان بادشاہ کا مجلسی اور اس کا ممتاز۔وَمِنْہُ الصَّلوٰۃُ قُرْبَانُ کُلِّ تَقِیٍّ: اسی پر محاورہ ہے کہ نماز ہر ایک متّقی کیلئے قربان ہے۔اور حدیث میں آیا ہے: مَاینزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَا فِلِ حَتّٰی اَحْبَبْتُہٗ۔فَاِذَا اَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سنمْعَہُ الّنذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہٗ الَّذِیْ یَبْصُرُ بِہٖ وَیَدَہُ الّتِی یَبْطِشُ بِھَاوَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا۔(بخاری) میرا بندہ نفلوں کے ذریعہ میرے قریب ہوتا ہے۔یہاں تک کہ میں اسے پیار کرتا ہوں۔اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سُنتا ہے۔اور آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور ہاتھ جس سے وہ پکڑتا ہے اور پاؤں جس سے چلتا ہے۔پس قربان کے معنی ہوئے اﷲتعالیٰ کی رضا مندیوں میں اپنے آپ کو محو کر دینا اور اس ذریعہ سے اپنے آپ کو اس کے نزدیک کرنا اور اس کے خاصوں میں ہو جانا۔جب کوئی انسان ایسا ہوتا ہے کہ نہ اس کو کسی کے ساتھ مخلوق میں ذاتی رنج و غضب ہوتا ہے اور نہ کسی کے ساتھ مخلوق میں سے ذاتی محبّت اور تعلّق ہوتا ہے۔اس کی محبّت خلّق سے ہوتی ہے مگر لِلّٰہِ۔وَ بِاﷲِ۔وَ فِی اﷲِ ہوتی ہے۔اور اس کا بُغض بھی ہوتا ہے مگر لِلّٰہِ۔وَ بِاﷲِ۔وَ فِی اﷲِ ہوتا ہے۔وہ فانی بﷲ اور باقی باﷲ ہو جاتا ہے۔اسکا کھانا صرف اس لئے ہوا کرتا ہے کہ جنابِ الہٰی نے کُلُوْاکا حکم دیا ہے اور ایسے آدمی کا پینا اس لئے ہوتا ہے کہ اس کو پینے میں ارشادب الہٰی ہے وَ اشْرَبُوْا اور اسکا بی بی سے محبّت و پیارا اسی وسطے ہوتا ہے کہعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ کا حکم ہے۔پس شہوت و غضب۔طمع و جزع۔عجز و کسل۔بے استقلالی وغیرہ رذائل اس میں نہیں رہتے