حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 91 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 91

اندرونی بعاوتوں کو دیکھ کر حملہ آور ہوتے اور ہلاک کر دیتے تو یہ خدا کا رحم ہے جو اس نے سلطنت لے کر دوسروں کے حوالے کی اور ہم کو اس دُکھ سے بچا لیا جو اس وقت موجودہ حالت کے ہوتے ہوئے ہمیں پہنچتا۔(الحکم ۳۱؍مارچ ۱۹۰۲ء صفحہ ۶۔۷) ۲۲۔  بندے ایک وہ ہوتے ہیں جن کو الہام ہوتا ہے۔اﷲ تعالیٰ ان کو فہم عطا کرتا ہے اور اپنے فہم سے خدا تعالیٰ کی باتوں کو سمجھتے ہیں۔ایک وہ ہوتے ہیں کہ جن کو نہ الہام ہوتا ہے نہ خدا ان کو تفہیم کرتا ہے لیکن ان کو وسعتِ نظر حاصل ہوتی ہے اور علم وسیع ہوتا ہے۔تیسرے وہ ہوتے ہیں جن کو نہ علم ہوتا ہے نہ تفہیمِ الہٰیہ۔ان تیسری قسم والوں کو پہلی دو قسم والوں کی اطاعت کرنی چاہیئے۔یہاں اسی کے متعلق فرمایا کہ  موسٰی ؑ فرماتے ہیں اگر میرا کہنا نہ مانو گے تو گھاٹا پاؤ گے۔انہوں نے جواب دیا۔کہ یَا( المائدۃ: ۲۳) آپ کو خبر نہیں کہ وہاں طاقتور لوگ رہتے ہیں اور وہ اپنے بگاڑ کی اصلاح جلد کر سکتے ہیں۔ہم نہیں کر سکتے۔آپ ان باتوں میں تجربہ کار ہیں۔دوسری قسم کے لوگ وہ رَجُلَانِ ہیں جن کے نام یوشع بن نون اور کلب ہے جنہوں نے کہا۔بسروچشم حاضر ہیں۔بلکہ دوسروں کو بھی وعظ کیا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۵؍ اگست ۱۹۰۹ء) ۲۳۔  ۲۵۔