حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 90 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 90

کر سکتے ہیں اس تکبّر اور خود پسندی نے انہیں محروم کر دیا اور وہ اس رحمتہ للعالمین کے ماننے سے انکار کر بیٹھے جس سے حقیقی توحید کا مصفٰی اور شیرین چشمہ جاری ہوا۔(الحکم ۱۰؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۶) بنی اسرائیل جب مصر کی طرف گئے تو پہلے پہل ان کو یوسف علیہ السلام کی وجہ سے آرام ملا۔پھر جب شرارت پر کمر باندھی تو فراعنہ کی نظر میں بہت ذلیل ہوئے مگر خدا نے رحم کیا اور موسٰی علیہ السلام کے ذریعہ سے ان کو نجات ملی۔یہاں تک کہ وہ اپنے تئیں  :سمجھنے لگے لیکن جب انکی حالت تبدیل ہو گئی۔ان میں بہت ہی حرامکاری۔شرک اور بد ذاتیاں پھیل گئیں تو ایک زبردست قوم کو اﷲ تعالیٰ نے ان پر مسلّط کر دیا۔(بدر ۴؍فروری ۱۹۰۹ء صفحہ ۳)  : آجکل سیّدوں کی بھی یہی حالت ہے۔کوئی کبریائی ایسی نہیں جو ان میں نہیں حالانکہ بعض ذلیل ہو رہے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۵؍ اگست ۱۹۰۹ء) ۲۱۔  کیسا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جو اسباب کو مہیّا نہیں کرتا۔اور وہ انسان تو بہت ہی بد قسمت ہے جس کو اسباب میّسر ہوں لیکن وہ ان سے کام نہ لے۔اب میں تمہیں توجہ دلائی چاہتا ہوں۔گھر کی حالت پر۔تمہیں یا مجھے یا ہماری موجودہ نسلوں کو وہ وقت تو یاد ہی نہیں جب ہم اس ملک کے بادشاہ تھے۔سلطنت بھی خدا تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرئیل کو حضرت موسٰے علیہ السلام کے ذریعہ فرمایا  یعنی اے میری قوم خدا نے تُجھ میں انبیاء کو مبعوث فرمایا۔اور تجھ کو بادشاہ بنا دیا۔جب قوم کی سلطنت ہوتی ہے تو قوم کے ہر فرد میں حکومت کا ایک رنگ آ جاتا ہے۔ہاں ہمیں تو وہ وقت یاد نہیں جب ہم بادشاہ تھے۔اچھا تو قوم کی سلطنت اب ہے نہیں اور خدا کا شکر بھی ہے کہ نہیں ہے کیونکہ اگر ہوتی تو موجودہ نااتفاقیاں۔یہ لاچاریاں۔یہ بیکسی اور بے بسی۔خودرائی اور خود بینی ہوتی ٌروریاتِ زمانہ کی اطلاع نہ ہوتی تو کس قدر مشکلات کا سامنا ہوتا۔اور کیسے دُکھوں میں پڑتے۔بیرونی حملہ آور