حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 79
بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسان اور افضال کو کوئی گنِ ہی نہیں سکتا۔حُسن دیکھو تو کیسا اکمل۔ایک ناپاک قطرہ سے کسی خوبصورت شکلیں بناتا ہے کہ انسان مَحو ہو ہو کر رہ جاتا ہے۔پاخانہ سے کیسی سبز اور نرم دل خوش کن کونپل نکالتا ہے۔انار کے دانے کس لطافت اور خوبی سے لگاتا ہے۔اِدھر دیکھو۔اُدھر دیکھو۔آگے پیچھے۔دائیں بائیں۔جدھر نظر اٹھاؤ گے اُس کے حُسن کا ہی نظارہ نطر آئے گا اور یہ بالکل سچّی بات پاؤ گییُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (الجمعہ : ۶۳)ساری دنیا میں جس قدر مذاہبِ باطلہ ہیں۔انہیں دیکھو گے تو معلوم ہو گا کہ اﷲ تعالیٰ کے کسی اسم یا صفت کا انکار کیا ہے اور اسی انکار نے انکو بطلان پر پہنچا دیا ہے۔ایک بُت پرست اگر خدا تعالیٰ کو علیم۔خبیر۔سمیع۔بصیر۔قادر جانتا ہے تو کیوں پتھر۔شجر۔ہوا۔سورج۔چاند اور ارذل ترین چیزوں کے سامنے سجدہ کرتا اور اسکی اُستتی کرتا ہے اور کوئی جواب نہیں ملتا تو یہی عذر تراش لیا کہ ہماری عبادت صرف اس لئے ہے کہ یہ أَصنام و معبود ہم کو اﷲ تعالیٰ کیے حضور پہنچا دیں اور مقرّب بارگاہِ الہٰی بنا دیں۔اصل یہی ہے کہ وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر غریب و گنہگار کی آواز سنتا ہے اور ہر ایک دُور شدہ کو نزدیک کرنا چاہتا ہے۔اونچی آواز سے پکار و یاد ھیمی آواز سے۔وہ سمیع ہے۔اگر ایسا مانتے تو کبھی بھی وہ مخلوقِ عاجز اور ناکارہ مخلوق کے آگے، ہاں ان اشیاء کے آگے جو انسان کیلئے بطور خادم ہیں سر نہ جھکاتے اور یوں اپنے ایمان کو نہ ڈبوتے… سچّے پرستارِ الہٰی اور مخلص عابد بنو۔خدا کی طرف قدم اٹھاؤ۔یہاں بھی رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا فرمایا۔اسلام کا لفظ چاہتا ہے کہ کچھ کر کے دکھاؤ موجودہ حالت میں ہم نے ( ہم سے مُراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے امام ۱؎کے ہاتھ پر توبہ کی ہے) اور مسلمانوں سے بڑھ کر امتیاز پیدا کیا ہے۔ہم میں مُلْہَمْ ہے۔ہم میں ہادی اور امام ہے۔ہم میں وہ ہے جس کی خدا تائید کرتا ہے۔جس کے ساتھ خدا کے بڑے بڑے وعدے ہیں۔اس کا حَکَمْ اور عَدْل بنا کر خدا نے بھیجا ہے مگر تم اپنی حالتوں کو دیکھو۔کیا مدد اور عمل درآمد کیلئے بھی ایسا ہی قدم اٹھایا جیسا کہ واجب ہے۔(الحکم ۵؍مئی ۱۸۹۹ء صفحہ۳ تا صفحہ۵) جو دین لے کر یہ خدا کا سچّا نبی صلی اﷲ علیہ وسلم آیا۔اس کا نام اسلام رکھا جس کے معنی ہی میں سلامتی موجود ہے یہی وہ دین ہے جس کی نسبت اﷲ تعالیٰ نے اپنی رضامندی کا اظہار یہ کہہ کر فرمایا : اور اس اسلام پر عملدر آمد کرنے والے سچّے مسلمان کو جس نتیجہ پر پہنچایا