حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 80 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 80

دارالسّلام ہے۔پس کوئی ہے جو اس قدر سلامتیوں کو چھوڑے؟ وہی جو دنیا میں سب سے بڑھ کر بدنصیب ہو! (الحکم ۱۰؍فروری ۱۹۰۱ء صفحہ۶) یہ بالکل سچّی بات ہے کہ خلفائے ربّانی کا انتخاب انسانی دانشوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔اگر انسانی دانش ہی کا کام ہوتا تو کوئی بتائے کہ وادیٔ غیر ذی زرع میں وہ کیونکر تجویز کر سکتی ہے۔چاہیئے تو یہ تھا۔کہ ایسی جگہ ہوتا جہاں جہان پہنچ سکتے۔دوسرے ملکوں اور قوموں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے اسباب میسّر ہوتے مگر نہیں۔وادیٔ غیر ذی زرع ہی میں انتخاب فرمایا اس لئے کہ انسانی عقل اُن اسباب و وجوہات کو سمجھ ہی نہیں سکتی تھی جو اس انتخاب میں تھی۔اور ۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام۔ناقل ان نتائج کا اس کو علم ہی نہ تھا جو پیدا ہونے والے تھے عملی رنگ میں اس کے سوا دوسرا منتخب نہیں ہوا۔اور پھر جیسا کہ عام انسانوں اور دنیاداروں کا حال ہے کہ وہ ہر روز غلطیاں کرتے اور نقصان اٹھاتے ہیں آخر غائب اور خاسر ہو کر بہت سی حسرتیں اور آرزوئیں لے کر مَر جاتے ہیں لیکن جناب الہٰی کا انتخاب بھی تو ایک انسان ہی ہوتا ہے۔اس کو کوئی ناکامی پیش نہیں آتی۔وہ جدھر مُنہ اٹھاتا ہے اُدھر ہی اس کے واسطے کامیابی کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور وہ فضل۔شِفا۔نور اور رحمت کہلاتا ہے۔اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ کی صدا کس کو آئی؟ کیا اپنی دانش اور عقل کے انتخاب کو یا وادیٔ غیر ذی زرع میں اﷲ تعالیٰ کے انتخاب کو؟ جناب الہٰی ہی کا منتخب بندہ تھا جو دنیا سے نہ اُٹھا جب تک یہ صدا نہ سُن لی۔پس یاد رکھو کہ مامور من اﷲ کے انتخاب میں جو جنابِ الہٰی ہی کا کام ہے چُون و چرا کوئی درست نہیں ہے۔ہزارہا مصائب و مشکلات آئیں وہ اس کوہِ وقار کو جنبش نہیں دے سکتیں آخر کامیابی اور فتح ان کی ہی ہوتی ہے۔(الحکم ۱۰؍فروری ۱۹۰۱ء صفحہ۵) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہی معجزات تھے کہ تمام عرب مقابلہ میں عاجز ہو گئے اور ایسا عجز اختیار کیا کہ اپنے خیال بدلے سب سے آخر دست بردار ہو گئے۔اﷲ اﷲ کیسے آیات بیّنات ہیں اور کیسے برکات ہیں۔کیا کوئی قریشی آپؐ کا مخالف دنیا میں موجود ہے۔آپؐ کی ساری قوم آپؐ کے سامنے آپؐ کے جیتے جی اس دین میں داخل ہو گئی جس میں داخل کرنے کا آپؐ نے بیڑا اٹھایا تھا۔عرب کے ایسے شہر میں جہاں آپؐ نے وعظ شروع کیا ( قربانت شَوَم) یا رسول اﷲ ( صلی اﷲ علیہ وسلم) یہ الہام سُن لیااَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِ ط اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا۔یہ نُصرت کسی ہادیٔ مذہب کو اپنے سامنے اپنی زندگی میں ہوئی تو اس کی نظیر دو۔اس بے نظیر کامیابی میں بھی اعجاز ظاہر ہے اور عدمِ نظیر میں اس کامیابی کے خرقِ عادت ہونے میں کون ساشُبہ ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۴۱۔۴۲)