حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 78
جانتا ہوں۔وہ جمعہ کا دن تھا۔وہ عرفہ کا دن تھا۔وہ اسی عیدالاضحٰی کا مقدمہ تھا۔عرفات میں نازل ہوئی تھی۔اس کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم… ۱؎ روز زندہ رہے۔یوں تو اﷲ جلّ شانہ، کا نزول ہر روز خاص طرز پر رات کے آکر ثُلث میں ہوتا ہے مگر جمعہ کے دن پانچ دفعہ اور عرفات کو نو دفعہ نزول ہوتا ہے۔احادیثِ صحیحہ سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ شیطان ایسا کبھی یَأْس میں نہیں ہوتا۔جیسے عرفات کے دن۔یہ وہ دن ہے کہ اﷲ جلّ شانہ، نے ہماری نعماء دینیہ کیلئے جس کتاب کو نازل کیا تھا اُسے کامل کر دیا۔کامل دین جس کا نام اسلام ہے اُسے اُسی دن کامل کر دیا جس دین کی متابعت ضروری اور اس پر کاربند ہونا سعید انسان کو لازم ہے۔اس کے اصول اور فروع اﷲتبارک و تعالیٰ نے اس دن میں تمام و کامل کر دیئے وہ چیز جس کو کامل طور پر تمہیں نہیں بلکہ دنیا کو پہنچانے کیلئے سرورِ عالم فخرِ بنی آدم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی ساری دعاؤں اور کل طاقتوں اور مساعی جمیلہ کو پورے طور پر لگایا تھا۔اس کا نام اسلام ہے۔اور اسکی تکمیل کا دن جمعہ کا مبارک دن اور عرفات کا پاک دن ہے۔تمام ادیانِ مروّجہ اور مذاہبِ موجودہ کا مقابلہ کرنا چاہیں اور غور کر کے دیکھیں تو معلوم ہو گاکہ کیا بلحاظ اول کے اور کیا بلحاظ حفظِ اصول اور فروع کے وہ اسلام کے مقابلہ میں کچھ حقیقت ہی نہیں رکھتے۔اور بالکل ہیچ دکھائی دیتے ہیں اس کے اہم ترین اُمور میں سے اﷲ جل شانہ ،کا ماننا۔اس کا اسماء حُسنٰی اور صفات و محامد میں یکتا و بے ہمتا ماننا ہے جس کا خلاصہلَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ میں موجود ہے جس کا نام افضل الذّکر ہے اور جس کی نسبت رسولاﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ۱؎ ۹۰ (نوّے) دن۔مرتّب کُل نبیوں کی تعلیم کا خلاصہ ہے جس کو اﷲ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔اور آج میں بھی کہتا ہوں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہٗ لَا شَربیْکَ لَہٗ۔اس کی حقیقت یہ ہے انسان اﷲ کی ہستی کی برابر اور ہستی کو یقین نہ کرے۔اور اﷲ تعالیٰ کو اسماء میں افعال میں یکتا۔وجُود و بقاء میں یکتا۔تمام نقائص سے منزّہ اور تمام خوبیوں سے معمور یقین کرے۔وہی معبود حقیقی ہے اُس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت جائز نہیں۔عبادت کا مدار ہے حُسن و احسان پر۔پھر یہ دونوں باتیں بدرجہ کامل کس میں موجود ہیں۔اﷲ ہی میں۔احسان دیکھ لو۔تم کچھ نہ تھے تم کو اُس نے بنایا۔کیسا خوبصورت تنو مند اور دانش مند انسان بنا دیا۔بچّے تھے ماں کی چھاتیوں میں دُودھ پیدا کیا۔سانس لینے کو ہوا۔پینے کو پانی۔کھانے کو قسم قسم کی لطیف غذائیں۔طرح طرح کے نفیس لباس اور آسائش کے سامان کس نے دیئے؟ خدا نے ! میں کہتا ہوں۔کیا چیز ہے جو انسان کو فطرۃًمطلوب ہے اور اس نے نہیں دی۔سچّی