حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 77 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 77

اپنی دکان گرم کرنے کیلئے صدہا جھوٹے قصّے بنانے پڑتے ہیں۔اس لئے توحید کی حامی شریعت نے ایسی تمام قربانیوں کو باطل کر دیا اور محرمات میں اس کو رکھ دیا اور فرمایا ۔حرام کیا گیا تم پر مُردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ چیزیں جن پر اﷲ کے سوا کا نام پکارا جاوے اور ہمارے صوفیا کرام نے تو یہاں تک احتیاط اور تاکید کو اختیار فرمایا ہے کہ وہ کہتے ہیںمَاؔ کا لفظ جو مَآ اُھِلَّ میں آیا ہے۔وہ عام اور وسیع ہے۔پھر حضرت شیخ ابن عربی نے فتوحاتِ مکیہ میں لکھا ہے۔دیکھو فتوحاتِ مکیہ جلد نمبر ۳ صفحہ نمبر ۶۳۱ باب نمبر ۳۹۸ والشِّعْرُ فِی غَیْرِ اﷲِ بِہٖ فَاِنَّہٗ لِلنَّیَّۃِ بِہٖ اَثَرٌ فِی الْاَشْیَآئِ وَاﷲُ یَقُوْلُ وَمَآ اُمِرُوْآ اِلَّا لِیَعْبُدُوا اﷲَ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ۔(پ ۳۰ بیّنہ) غیر اﷲ کیلئے شعر کہنا  سے ہے کیونکہ نیّت کا اثر چیزوں میں ہوا کرتا ہے اور اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اور نہیں حکم کئے گئے وہ لوگ مگر اس بات کا کہ عبادت و پرستش کریں اﷲ کی صرف اس لئے خالص کرنے والے ہوں اپنے دین کو۔ہم نے اپنی کتاب میں ایسے شعروں سے پرہیز کیا ہے جو کسی محبوبِ مجازی کے حق میں یا غیر اﷲ کے لئے وہ شعر بولے گئے کیونکہ وہ مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ ﷲِ ہیںاور وہ حرام ہیں۔دومؔ ان تمام سوختنی قربانیوں سے روک دیا گیا ہے۔جو اشیاء آگ میں تباہ کی جاتی ہیں اور جن کا ذکر صدہا بلکہ ہزار ہا بار یجر۔رگ۔سام ویدوں میں ہوا ہے… تیسریؔ وہ تمام قربانیاں موقوف کر دیں جن میں یہ خیال پیدا ہو سکے کہ وہ تراکیب ہمارے گناہوں بدکاریوں ، نافرمانیوں کا کفّارہ ہوں گی۔ایسی ہی قربانیوں نے جو ایک برّے کی ہوئی یا نہ ہوئی تمام عیسائیوں کو دلیر و بے باک کر دیا ہے۔(نور الدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۴۰۔۱۴۱) ۔یہ آیتِ شریفہ قرآن مجید میں کس وقت نازل ہوئی؟ ایک یہودی نے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا۔کہ ایک آیت آپ کی کتاب میں ہے۔اگر ہماری کتاب میں ہوتی تو جس دن وہ اُتری تھی اُسے عید کا دن قرار دیتے۔حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے تو اُس نے یہ آیت پڑھیوَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتم  جناب عمرؓ نے فرمایا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی؟ کس وقت نازل ہوئی؟ کہاں نازل ہوئی؟ مَیں اسے خُوب