حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 76
: معاشرت میں ضرورت ہے عمدہ اخلاق کی اور بدن کو حوادث سے محفوظ رکھنے کی۔پس مُردار کو استعمال کر کے جان کو ہلاکت میں مت ڈالو۔اسی طرح خون میں بھی بہت سی زہریں ہوتی ہیں۔وہ لطیف طاقتیں جو خدا کی معرفت کیلئے ضروری ہیں خون کھانے والوں میں نہیں رہتیں۔چوہڑے (ہلاک خور) کو اگر جنابِ الہٰی کی عظمت و جرأت کا مضمون سمجھاؤ تو وہ نہ سمجھے گا۔اسی طرح لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ۔سؤر کا گوشت ہے جو شہوت و غضب کو بڑھا دیتا ہے بعض آدمی بات بات پر آگ ہوتے ہیں۔گویا ان کا دوزخ انکے ساتھ ہوتا ہے۔چلتے ہوئے ناک چڑھاتے جائیں گے۔ہر وقت ایک جلن محسوس کرتے رہیں گے۔شیر باوجود اتنا بہادر ہونے کے اپنے دشمن کے مقابلہ میں احتیاط کرتا ہے اِدھر اُدھر ہو کر حملہ کرتا ہے۔مگر سؤر غضب کے وقت سیدھا آتا ہے اسی طرح اس جانور میں شہوت بڑی ہوتی ہے۔تمام گناہوں کی مبدء یہی دو قوتیں ہیں۔غضب و شہوت۔اس لئے اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔: پھر وہ چیزیں ہیں جن پر غیر اﷲ کا نام لیا جاوے۔ان کا کھانا بلحاظ عقائد اﷲ سے بُعد میں ڈال دیتا ہے۔اس کے بعدمَیْتَۃ اورمَآ اُھِلَّ کی کچھ تفصیل دی۔پہلے پہلے اسلام نے عقائد سکھائے۔اﷲ کی عظمت۔پھر ملائکہ پھر رسولوں پھر کتابوں کا علم سکھایا۔پھر عبادت کے طریق بتلائے۔پھر زکوٰۃ۔روزہ۔حج۔پھر بتدریج سکھاتے سکھاتے تمدّن کے ضروری مسائل سکھائے۔پھر کھانے پینے کے مسئلے بھی بتا دیئے۔اس پر کہا کہ اب تو تمہارا کھان پان بھی بیان ہو چکا اس لئے شریعت کے اصول کامل ہونے سے کافر نا اُمید ہو گئے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان۵؍اگست ۱۹۰۹ء) حرام کیا گیا تم پر مُدار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جس پر غیر اﷲ کا نام پکارا جائے (نورالدّین (ایڈیشن سوم) صفحہ یج۔۱۳) اسلام نے بعض قربانیوں کو قطعًا حرام اور نیست و نابود کر دیا ہے۔اوّلً وہ قربانیاں جن میں بُت پرستی اور شرک ہو۔کیونکہ شرک میں مبتلا انسان بحیثیت مشرک ہونے کے حقیقی اسباب کو ترک کر کے اپنی دیوی دیوتا سے اُمّیدوار کامیابی کا ہوتا ہے اس لئے حقیقی کامیابی سے محروم رہتا ہے اور دوسرے ان مشرکوں اور پُجاریوں کو اپنی ا