حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 71 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 71

۱۷۷۔     : ربط پہلی آیات سے یہ ہے کہ مسیحؑ مر چکا۔وہ کلالہ تھے اس لئے اس کے بھائی اسمٰعیل وارث ہوئے۔(تشحیذالاذہان ستمبر ۱۹۱۳ء جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۵۰) آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت قلم دوات منگوائی اور چاہا کہ مَیں تم کو ایسی بات لکھ دوں کہ اَنْ تَضِلُّوْا (کہ تم میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو)۔جن لوگوں کی عقل باریک اور سمجھ مضبوط اور علم کامل تھا وہ سمجھ گئے کہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کے پاک کلام کی طرف متوجّہ کیا اور جس کی زبان پر حق چلتا تھا۔اُس نے اس بات کا یقین کر لیا۔کہ آپؐ جو بات ہمیں لکھنا چاہتے تھے۔وہ یہی کتاب تھی۔چنانچہ اس نے صاف کہا کہ حَسْبُنَا کِتَابَ اﷲ یہ ایک نکتۂ معرفت ہے جو ایک زمانہ میں اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر کھولا تھا۔آنحضرتؐ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ہیں کہ میں ایسی بات لِکھ دوں کہ اَنْ تَضِلُّوْا دوسری طرف قرآن مجید میں یہ آیات موجود ہیں یُبَیِْنُ اﷲُ لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْا بمعنے لِئَلَّا تَضِلُّوْا پس تطابق سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن ایک کافی کتاب ہے۔(الحکم ۱۴؍جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۹)