حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 5
جائیں۔غرض فرمایا: لوگو! تقوٰی اختیار کرو۔اپنے ربّ سے ڈرو۔وہ ربّ جس نے تم کو ایک جی سے بنایا ہے اور اسی جنس سے تمہاری بیوی بنائی اور پھر دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیں۔ سے یہ مُراد ہے کہ اسی جنس کی بیوی بنائی۔اس آیت میں جو فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کی اصل غرض تقوٰی ہونی چاہیئے اور قرآنِ مجید سے یہی بات ثابت ہے۔نکاح تو اس لئے ہے کہ اِحصان اور عفّت کی برکات کو حاصل کرے مگر عام طور پر لوگ اس غرض کو مدّنظر نہیں رکھتے بلکہ وہ دولتمندی۔حُسن و جمال اور جاہ و جلال کو دیکھتے ہیں مگر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا عَلَیْکَ بِذَاتِ الدِّیْنِ۔بہت سے لوگ خدّوخال میں محو ہوتے ہیں جن میں جلد تر تغیرّ ہو جاتا ہے۔ڈاکٹروں کے قول کے موافق تو سات سال کے بعد وہ گوشت پوست ہی نہیں رہتا مگر عام طور پر لوگ جانتے ہیں کہ عمر اور حوادث کے ماتحت خدّوخال میں تغیّر ہوتا رہتا ہے۔اس لئے یہ ایسی چیز نہیں جس پر انسان محو ہو۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے نکاح کی اصل غرض تقوٰی بیان فرمائی ہے۔دیندار ماں باپ کی اولاد ہو۔دیندار ہو۔پس تقوٰی اختیار کرو اور رِحم کے فرائض پورے کرو۔میں تمہاے لئے نصیحتیں کرتا ہوں۔یہ تعلق بڑی ذمّہ داری کا تعلّق ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے نکاح جو اغراضِ حُبّ پر ہوتے ہیں اُن سے جو اولاد ہوتی ہے وہ ایسی نہیں ہوتی جو اس کی رُوح اور زندگی کو بہشت کر کے دکھائے۔ان ساری خوشیوں کے حصول کی جَڑ تقوٰی ہے اور تقوٰی کے حصول کیلئے یہ گُر ہے کہ اﷲ کے رقیب ہونے پر ایمان ہو۔چنانچہ فرمایا: جب تم یہ یاد رکھو گے کہ اﷲ تعالیٰ تمہارے حال کا نگران ہے۔تو ہر قسم کی بے حیائی اور بدکاری کی راہ سے جو تقوٰی سے دُور پھینک دیتی ہے بچو گے۔(اخبار بدرؔ قادیان ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۶) ۳۔ : مظلوموں میں یتیم بڑا مظلوم ہے۔ایک جگہ فرمایا : (انعام : ۱۵۳)