حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 4
ہو، اس کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ تقوٰی ہے۔تقوٰی کے حصول کا یہ ذریعہ ہے کہ انسان اپنے عقائد اور اعمال کا محاسبہ کرے اور اس امر کو ہمیشہ مدّ نظر رکھے اِنَّ اﷲَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًاجب تم یہ یاد رکھو گے کہ اﷲ تعالیٰ تمہارے حال کا نگران ہے۔تو ہر قسم کی بے حیائی اور بدکاری کی راہ سے جو تقوٰی سے دُور پھینک دیتی ہے بچ سکو گے۔دیکھو کسی عظیم الشان انسان کے سامنے انسان بدی کے ارتکاب کا حوصلہ نہیں کر سکتا۔ہر ایک بدی کرنے والا اپنی بدی کو مخفی رکھنا چاہتا ہے پھر جب خدا تعالیٰ کو رقیب اور بصیر مانے گا اور اس پر سچّا ایمان لائے گا تو پھر ایسے ارتکاب سے بچ جائے گا۔غرض تقوٰی ایسی نعمت ہے کہ متقی ذُریتِ طیّبہ پا لیتا ہے۔(الحکم ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۴۔۱۵، الحکم ۱۷؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۳) اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقوٰی اختیار کرو اور خدا تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو کہ اس نے آدم کو پیدا کیا اور اس سے بہت مخلوق پھیلائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام و البرکات پر اُس کا خاص فضل ہوا۔اور ابراہیم کو اس قدر اولاد دی گئی کہ اس کی قوم آج تک گنِی نہیں جاتی اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے امام کو بھی آدم کہا اور رِجَالًا کَثِیْرًاکی آیت ظاہر کرتی ہے کہ اس آدم کی اولاد بھی دنیا میں اس طرح پھیلنے والی ہے۔میرا ایمان ہے کہ بڑے خوش قسمت وہ لوگ ہیں جن کے تعلّقات اس آدم کے ساتھ ہوں گے۔کیونکہ اس کی اولاد میں اس قسم کے رجال اور نساء پیدا ہونے والے ہیں جو خدا تعالیٰ کے حضور میں خاص طور پر منتخب ہو کر اس کے مکالمات سے مشرّف ہوں گے۔مبارک ہیں وہ لوگ۔مگر یہ باتیں بھی پھر تقوٰی سے حاصل ہو سکتی ہیں اور تقوٰی ہی کے ذریعہ سے فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔کیونکہ خدا کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔مجھے سب سے بڑھ کر جوش اس بات کا ہے کہ میں مسیح موعود کی بیوی، بچّوں۔متعلّقین اور قادیان میں رہنے والوں کے واسطے دعائیں کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کو رِجَالًا کَثِیْرًا اورتقوٰی اﷲ والے کے مصداق بنائے۔( اخبار بدرؔ قادیان ۱۳؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ۹) : شادی کے بعد لڑکی کے تمام رشتہ دار تمہارے اور تمہارے رشتہ دار لڑکی کے ہو گئے۔:یہ ایک سورۃ کا ابتداء ہے۔اس سورۃ میں معاشرت کے اصولوں اور میاں بیوی کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے۔یہ آیتیں نکاح کے خطبوں میں پڑھی جاتی ہیں اور غرض یہی ہوتی ہے کہ تا اُن حقوق کو مدّ نظر رکھا جاوے۔اس سورۃ کو اﷲ تعالیٰ نے سے جو اُنس ؔسے تعلق رکھتا ہے تو میاں بیوی کا تعلّق اور نکاح کا تعلّق بھی ایک اُنس ہی کو چاہتا ہے تاکہ دو اجنبی وجود متّحد فِی الاِرَادۃ ہو