حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 57 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 57

 : بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ خود کوئی بدی کر کے دوسرے کے ذمّے لگا دیتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍ جولائی ۱۹۰۹ء) ۱۱۴۔    مَیں تم کو قرآن شریف سناتا ہوں۔مُدّعا اس سے میرا یہ ہوتا ہے کہ تم اس پر عمل کرو اور عمل کر کے اس سے نفع اٹھاؤ۔قرآن کریم پر عمل کرنے سے انسان کے آٹھ پہر خوشی سے گزرتے ہیں۔قرآن شریف پر عمل کرنے سے انسان کو خوشی و عزّت اور کم سے کم بندوں کی اتباع اور محتاجی سے نجات ملتی ہے۔:خبر دار ہو جاؤ ایک گروہ اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ تم گمراہ ہو جاؤ۔: اگر تم قرآن شریف پر توجّہ رکھو تو تم گمراہ کرنے والوں کی کوششوں سے محفوظ رہ سکتے ہو۔یورپ والوں نے کس قدر ترقی کی ہے لیکن دیکھو ایک بندہ کو خدا بنا لیا آریہ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ نہیں کہہ سکتے۔: دیکھو۔نبیٔ کریمؐ ایسے انسان کو ارشاد ہے کہ اگر قرآن شریف نہ آتا تو تجھ کو کچھ نہ آتا۔بھلائی اور برائی سمجھنے کا ایک ہی ذریعہ : قرآن شریف ہے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍ جولائی ۱۹۰۹ء) : اﷲ تعالیٰ حضرت محمّد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے خلق کو عظیم فرماتا ہے۔اور ان پر جو فضل ہوا اُسے بھی عظیم فرمایا۔اب خیال کرو کہ جس کو خدا تعالیٰ نے عظیم کہا وہ کس قدر عظیم الشان ہو گا۔اب جو رسول اس شان کا ہے اسکے بغیر ہم کو کسی اور کے مقتدا بنانے کی ریجھ بھی کیا ہوئی۔(بدرؔ ۳۱؍مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۴)