حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 568
۳۔اور اﷲ کے فرشتوں کا آنا اس آیت کی بناء پر۔ (الفجر:۲۳) (البروج:۲۱)(العلق:۱۸-۱۹) کلا اور قَبِیْلًا یعنی شہادت کیلئے یہ آیت ہے۔ (النساء:۱۶۷) ا۔۔۔ (العلق:۴ تا ۶) ۔(البیّنہ :۳۔۴)اور ہم پڑھ لیں کا مطالبہ اس آیت کی بناء پر تھا۔(الزخرف :۳) اور قولہ تعالٰی(بنی اسرائیل:۱۵)کفّار نے اغواء یہود سے یہ مطالبے کئے۔اور اسکی وجہ یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے اپنے آپ کو مثیلِ موسٰیؑ فرمایا تھا۔اور موسٰیؑ کیلئے جو کچھ تورات میں آیا یا آنے والے نبی کی نسبت جو پیش گوئیاں تھیں وہ آپؐ کی ذات میں پوری ہونی چاہیئے۔چنانچہ استثناء ۸ آیت ۸ میں ہے کیونکہ خداوند تیرا خدا تجھے ایک نفیس زمین میں داخل کرتا ہے ایسی زمین جہاں پانی کی نہریں اور چشمے اور جھیلیں جو وادیوں میں سے اور پہاڑوں سے نکلتی ہیں اور ایسی زمین جہاں گیہوں اور جَو اور انجیر اور انار ہوتے ہیں۔ایسی زمین جہاں زیتون کا تیل اور شہد ہوتا۔اور مکاشفہ باب۷ آیت ۹ میں ہے۔اور خرما کی ڈالیاں ہاتھوں میں لئے اس تخت کے آگے اور برّے کے حضور کھڑی ہیں پس ان آیات کی بناء پر چشمے اور باغات کا مطالبہ کیا اور خروج کے باب ۲۵ میں موسٰی! کے لئے بہت سے نذرانوں کا ذکر ہے۔جس میں آیت ۱۱ـ۱۲ میں سونے کا بھی ذکر ہے جس کی بناء پر انہوں نے بیتِ زخرف کا مطالبہ کیا۔اور خروج باب ۱۹ میں ذکر ہے کہ خدا نے فرمایا۔دیکھو مَیں اندھیری بدلی میں تجھ پاس آتا ہوں۔… اور جو کوئی پہاڑ کو چھُوئے گا۔البتہ جان سے مارا جائے گا۔اور باب ۲۰ میں ہے۔بادل گرجے بجلیاں چمکیں۔قرنائی کی آواز ہوئی۔پہاڑ سے دھواں اُٹھا… تب انہوں نے موسٰی سے کہا کہ تو ہی ہم سے بول اور ہم سنیں لیکن خدا ہم سے نہ بولے کہیں ہم مر نہ جائیں۔اس بناء پر انہوں نیتُسْقِطَ السَّمَآئَ طلب کیا۔اور باب ۱۹ آیت ۱۱ میں ذکر ہے کہ ’’ اور تیسرے دن تیار رہیں کہ خداوند تیسرے دن سارے لوگوں