حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 564 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 564

(البقرۃ : ۸۸)   (النساء:۱۷۲) سومؔ: رُوح جسمانی جس کا نفخ انسانی جسم میں اَورِدَہ اورشرائین کی تجویف بن جانے کے بعد ہوتا ہے جس کا اشارہ فَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ میں ہے۔اگر اس کی بابت پوچھتے ہو کہ مٹی کہاں سے آئی؟ تو ہم نہایت جرأت سے بلا تذبذب جواب دیتے ہیں۔مٹّی سرب شکتیمان ( قادرِ مطلق)۔بااختیار۔قادر کی ایجادی طاقت کا نتیجہ اور اثر تھا۔رب النوع کا ماننا اسلامی اعتقاد نہیں۔اس تذکرہ سے کس قوم پر تعریض کرتے ہو۔اسلامیوں میں تو یہ اعتقاد ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی موجود بالذّات۔کوئی غیر مخلوق۔اور فاعل مستقل نہیں۔ربّ النوع کے معتقد اسلامیوں میں مُشرک کہلاتے ہیں۔اور شرک کے حق میں قرآنی فتوٰی یہ ہے۔(لقمان:۱۴) (النساء :۴۹) (تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۱۳، صفحہ۲۱۴)  ۔ ۔یعنی یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ رُوح کیا چیز ہے اور کیونکر پیدا ہوتی ہے۔ان کو جواب دے کہ رُوح میرے ربّ کے امر سے پیدا ہوتی ہے۔یعنی وہ ایک رازِ قدرت ہے۔اور تم لوگ رُوح کے بارے میں کچھ علم نہیں رکھتے مگر تھورا یعنی صرف اس قدر کہ تم رُوح کو پیدا ہوتے دیکھ سکتے ہو۔اس سے زیادہ نہیں۔اور انسانی رُوح کے پیدا ہونے کیلئے دونوں نطفوں کے ملنے کے بعد جب آہستہ آہستہ قالب تیار ہو جاتا ہے۔تو جیسے چندادویہ کے ملنے سے اس مجموعہ میں ایک خاص مزاج پیدا ہو جاتی ہے کہ جو ان دواؤں میں فرد فرد کے طور پیدا نہیں ہوتی۔اسی طرح اس قالب میںجو خون اور دو نطفوں کا مجموعہ ہے ایک خاص جوہر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ایک فاسفورس کے رنگ میں ہوتا ہے۔اور جب تجلّی الہٰی کی ہواکُنْ کے امر کے ساتھ اس پر چلتی ہے تو ایک دفعہ وہ افروختہ ہو کر اپنی تاثیر اس قالب کے تمام حصّوں میں پھیلا دیتا ہے تب وہ جنین زندہ ہو جاتا ہے۔پس یہی افروختہ چیز جو جنین کے اندر تجلّی ربّی سے پیدا ہو جاتی ہے۔اسی کا نام رُوح ہے۔(یاد رہے) گو رُوح کا فاسفورس اس مادہ سے ہی پیدا ہوتا ہے۔مگر