حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 563
اور نیکی کو زندگی اور بدکاری کو موت کہنے کا محاورہ تو اس قدر ہے کہ عندالشرح یہی حقیقی معنی ہیں۔مگر میں اس قصّہ میں زیادہ طوالت لا حاصل جانتا ہوں۔:میں اگر یہ پوچھا جاوے کہ یہ سوال عیسائیوں اور یہودیوں نے کیوں کیا؟ تو وجہ ظاہر ہے۔یوحنا کی انجیل میں… اس رُوح کی آمدکی خبر تھی۔اور بہت لوگوں کا خیال تھا۔پس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سوال کیا گیا کہ قرآن کریم جسے تُو نے بارہا رُوح کہا ہے کس کی تصنیف ہے۔تو خود قرآنِ دکریم نے اسکا یوں جواب دیا کہ قرآن اﷲ تعالیٰ کا امر اور اس کا حکم اور اس کا کلام ہے۔اور جو کہا ۔اس کے مخاطب وہی سائل ہیں جن کو بہت ادلّہ سے ثابت کر دیا گیا تھا کہ قرآن کریم خدا کا کلام ہے۔رُوحؔ کی نسبت یہود کا سوال ہے۔یا عیسائیوں یا دونوں کا یا مان لیتے ہیں کسی ایسے دیانندیوں کے ہم خیال کا سوال ہے جو انسانی رُوح کے غیر مخلوق۔قدیم۔انادی ہونے کا معتقد تھا۔کسی کا سوال ہو۔کسی طرح کا سوال ہو۔ایسا وسیع جواب قرآن کریم نے دیا ہے کہ سب کو حاوی ہے۔اور جواب دِہندہ کی بے علمی یا قلّتِ علم کا یہاں ذکر نہیں۔بلکہ مخاطبین کی بے علمی کا ذکر ہے جو باوجود واضح اور حجّت ہائے قاطعہ کے سرِ تسلیم جھکانا پسند نہ کرتے تھے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۱۱تا صفحہ۱۱۵) رُوح کو کتبِ مقدّسہ اور پاک کتاب قرآنِ کریم نے بہت معنوں پر استعمال کیا ہے۔اوّل۔رُوح کلامِ الہٰی کا نام ہے۔اور اس لئے کہ کلامِ الہٰی سے بڑھ کر کوئی چیز زندگی کا موجب نہیں۔اگر اس متعارف رُوح سے چند روزہ زندگی حاصل ہو سکتی ہے تو اس رُوح (کلامِ الہٰی ) سے جاودانی حیات۔ابدی نجات نیولائف۔دھرم جیون کو انسان لے سکتے ہیں۔اگر اس رُوح سے چند روزہ جسمانی خوشیوں کو لے سکتے ہیں تو اس رُوح سے ابدی سُرور۔مہاانند۔ابدی آرام پا سکتے ہیں۔ان معنی کی رُو سے رُوح مخلاق نہیں بلکہ اﷲ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اس لئے کہ رُوح کلامِ الہٰی ہے اور اﷲ تعالیٰ اس کا متکلّم۔جب ان معنے کے لحاظ سے رُوح خدا کی صفت ٹھہری اور مخلوق نہ ہوئی اس کیلئے کسی مصالحۃ کی ضرورت بھی بجُز ذاتب الہٰی کے نہ رہی۔قرآن کریم سے ان معنی کی شہادت سُنو! ۔(الشورٰی : ۵۳) (النحل : ۳) دومؔ: رُوح، ملائکہ اور انبیاء کو کہا ہے اور ظاہر ہے کہ ملائکہ اور انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام مختلف اوقات میں مختلف عناصر سے پیدا ہوئے ہیں اور مختلف مصالحوں سے بنے۔ان معنے کا ثبوت قرآن کریم سے سُنئے