حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 562 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 562

اب اس اَمر کے اثبات کیلئے کہ رُوح سے مُراد وہی کلامِ الہٰی ہے جس سے ایمان مُردہ لوگ حیاتِ ابدی پاتے ہیں۔اور جو ہم نے مراد و معنے لئے ہیں۔وہی حق اور منشائے فرقانِ مجید کے مطابق ہے۔خود قرآن کریم سے مؤید آیات نقل کرتے ہیں۔اور اس محاورہ کو واضح کرتے ہیں۔سنو!  (الشورٰی : ۵۳)   (لنحل:۲-۳)  (مومن:۱۶)     (مجادلہ:۲۳) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوا کہ رُوح کلامِ الہٰی ہی کا نام ہے جس پر عمل کرنے سے موتٰی اور مُردہ بے ایمان زندہ ہوتے ہیں۔بلکہ قرآن نے انبیاء اور ملائکہ کو بھی رُوح فرمایا ہے۔کیونکہ وہ بھی اسی زندگی کا باعث ہیں جسے ایمان کہتے ہیں۔  (النساء:۱۷۲)  (البقرۃ : ۸۸) ان آیات سے ناظرین کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ رُوح کی حقیقت کو قرآن نے کیسے بیان کیا ہے۔یہ محاورہ رُوح کی نسبت اگرچہ مَیں نے قرآن سے ثابت کر دیا ہے۔اور آفتاب کے سامنے ستارہ کی حاجت نہیں مگر مزید تذکرہ کے واسطے کتبِ سابقہ سے بھی بیان کرتا ہوں۔’’ پھر جبکہ وہ تسلّی دینے والا جسے مَیں تمہارے لئے باپ کی طرف سے بھیجوں گا یعنی رُوحِ حق جو باپ سے نکلتی آوے تو وہ میرے گواہی دیگا‘‘ (یوحنا ۱۶ باب ۱۳)۔’’ لیکن جب وہ یعنی روحِ حق آوے تو وہ تمہیں سچائی کی راہ بتا دیگی‘‘ (یوحنا ۱۶ باب ۱۳)۔’’ اس لئے تم سے کہتا ہوں لوگوں کا ہر طرح کا گناہ اور کفر معاف کیا جاوے گا مگر وہ کفر جو رُوح کے حق میں ہو لوگوں کو معاف نہ ہو گا‘‘(متی ۱۲ باب ۳۱)