حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 559 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 559

  : یہ سوال یہود نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس وقت کیا جب آپؐ ان کے بیت المدارس کے پاس سے گزرے۔مگر یہ سورۃ مکّی ہے۔اس لئے اعتراض کیا جاتا ہے کہ مدینہ کے یہود کے سوال کا جواب کیوں دیا؟ یہ اعتراض قوی ہے۔مگر کیا ممکن نہیں کہ یہود نے مکّہ جانے والے لوگوں کی معرفت یہ سوال پوچھا ہو۔یہ جواب بر تقدیر تسلیم ہے کہ یہود نے سوال کیا۔ورنہ  عام ہے۔سوال کرنے والوں نے سوال کیا۔یَسْئَلُوْنَ سے ہی اس کے فاعل کا پتہ لگ سکتا ہے جیسے (مآئدہ:۹) میں ھُوَ کے مرجع کا۔یہ امر نحو کے قاعدہ کے مطابق ہے۔کہ فعل کے مشتق سے اس کا فاعل نکال لیتے ہیں۔پس یَسْئَلُوْنَ کے سائل عام سائل ہیں۔پوچھتے ہیں رُوح سے۔رُوح کیا چیز ہے۔اس کا جواب خود قرآن کریم کی ہی دوسر ی آیات سے کھلے گا۔اس زمانہ میں رُوح کا لفظ مشتبہ سا ہو گیا۔بعض نے روح سے مراد’’سوال‘‘ (SOUL)سمجھا۔جس سے آدمی کی زندگی وابستہ ہے۔مگر اگر یہ مراد ہوتی تو ایسا کمزور جواب خالق الارواح کی طرف سے ہرگز نہیں ہو سکتا۔جبکہ اسلام کے ادنیٰ خادموں میں سے اور شیخ ابنِ قیم حنبلی۔امام غزالی ؒ نے بھی حقیقت روحِ انسانی پر مبسوط مضمون لکھا ہے پس در اصل رُوح کلامِ الہٰی کو کہتے ہیں۔پھر کلامِ الہٰی کے پہنچانے والے نبی کو۔اور کلامِ الہٰی کے لانے والے مَلک کو بھی کہتے ہیں۔دیکھو سورۃ نحل پارہ ۱۴۔۱۔  (النحل:۳) اس کے صاف معنی ہیں کہ ملائکہ اﷲ کے حکم سے جس پر چاہتے ہیں کلام لَآ اِلٰہَ الَّآ نازل کرتے ہیں۔۲۔سورۃ مومن پارہ ۲۴۔ (مومن:۱۶) یہاںبھی رُوح سے مُراد کلامِ الہٰی ہے۔۳۔پھر سورۃ الشوٰری پارہ ۲۵ میں۔ (الشورٰی:۵۳) یہاں بھی رُوح سے مُراد کلامِ الہٰی ہے