حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 556 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 556

قتل کی مشورت کی۔اسی واسطے ۱۵؍ جولائی ۶۲۲ء جمعہ کے دن آپؐ نے مکّہ سے ہجرت کی اور مدینہ منوّرہ کو چلے گئے۔دوسرے سال یعنی ۶۲۳؁ھ میں بدر کا معرکہ ہوا۔جس میں وہ سب معاندین اور مخالفین تباہ اور عذابِ الہٰی میں گرفتار ہوئے۔وَ الْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۸۹-۹۰) ۷۸۔  : یہ طریقہ کہ جب نبی نکلا تو قوم پر عذاب آیا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۳) ۷۹،۸۰۔   حدیث میں آیا ہے جُبِلَتِ الْقُلُوْبُ عَلٰی حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ اِلَیْھَا۔سلیم الفطرت لوگ ہوتے ہیں۔ان کے دلوں میں کپٹ نہیں رہتی۔ایسے لوگوں کی عادت ہے کہ جو اُن کے ساتھ نیکی کرے۔وہ اس کے ساتھ محبت رکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ کے کس قدر احسان ہیں۔(ابراہیم:۳۵)کہ گِنے بھی نہیں جا سکتے۔پس اس سے بڑھ کر کون محسن ہو سکتا ہے اور اس سے زیادہ کون سزا دارِ محبّت و اطاعت ہو سکتا ہے؟ ایک معمولی بال سفید ہو جاوے تو انسان کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ذرا سی ناک کٹ جائے یا آنکھ کی پُتلی خراب ہو یا کان میں ضرر پہنچ جاوے تو کیا انجام ہوتا ہے۔یہ خدا کے فضل سے سلامت رہتے ہیں۔غرض ایسے مُحسن کی محبّت و اطاعت کے اظہار کیلئے نماز ہے۔جس کا حکم اس رکوع میں دیتا ہے۔اور ان کے ادا کرنے کے اوقات بتائے ہیں جو پے در پے آنیوالے ہیں۔تاکہ ایک نماز کے پڑھنے سے روحانیت کا اثر