حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 552 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 552

۶۵۔   : ا۔کسی کو ہلکا اوچھا بنا لینا۔ایسا کہ اپنے پر بھی قابو نہ رہے۔:صَوْت کا لفظ چار معنوں میں آیا ہے ۱۔کھیل کود۔لعب ۲۔لَھْو۔اﷲسے غافل کرنے کا سامان ۳۔غِنَاء۔گانا بجانا ۴۔ہر چیز جو معصیۃ اﷲ کی طرف بُلائے۔(کُلُّ دَاعٍ اِلٰی مَعْصِیَۃٍ اﷲِ) مومن کو ایسی باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے۔: دنیا میں کوئی سوار ہے۔کوئی پیادہ۔اے شیطان تیرے سوار و پیادے ہیں ینعی تیرے کام میں لگے ہوئے ہیں۔: مال میں شرکتِ شیطان یہ کہ مال حرام راہ سے کماوے ۲۔اﷲ کے حکم کے خلاف اس مال کو خرچ کرے۔: اولاد میں شرکتِ شیطان یہ ہے۔۱۔زنا سے اولاد حاصل کرنا۔۲۔اولاد کو کفر میں رنگین کرنا۔۳۔ایسے نام رکھنے جن میں غیر اﷲ کے فضل وغیرہ کا ذکر ہو مثلاً فضلِ میراں۔پِیراں دِتّا۔: شیطان کے وعدے کیا ہیں۔ان کیلئے مَیں نے بہت تحقیقات کی ہے۔تین باتیں تو بہت قوی ہیں۔اور دو اسی قبیل سے۔ادنیٰ شعبہ تو یہ ہے کہ کوئی آدمی بُرے کام سے روکا جاوے تو وہ جواب میں کہے کہ فلاں جو کرتا ہے۔ایسا کہنے والا گویا تمام بدیوں کو جائز ٹھہراتا ہے ۲۔یہ کہنا کہ یہ کام ہم نے پہلے بھی کیا ہے۔ہمارا کسی نے کیا بگاڑ لیا۔۱۔عقائد کے اندر شبہات یا عقائِد باطلہ ۲۔عمل باطل ۳۔جزاء و سزا کا انکار۔تمام شیطانی باتوں کا اصل الاصول یہی تینوں چیزیں ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍فروری ۱۹۱۰ء) ۶۶۔