حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 548
اچھی زمین کو جس کے دینے کا وعدہ مَیں نے ان کے باپ دادوں سے قسم کھا کے کیا ہے۔نہ دیکھے گا۔مگر یفُنّہ کا بیٹا کالبؔ اسے دیکھے گا۔(استثناء ا باب ۳۴ تا ۳۶) ایسے ہی چند معجزات کفّارِ مکّہ نے طلب کئے جن کا ذکر ذیل میں ہے۔(بنی اسرائیل :۹۱تا۹۴) آیات مرقومہ بالا سے معلوم ہوتا ہے۔کفّارِ مکّہ نے ایسے چھ معجزہ حضرت علیہ السلام سے طلب کئے جو اس وقت سردست منکروں کو دکھائے نہیں گئے۔مگر غور کرو یہ معجزے کیوں طلب کئے گئے اور کیوں ان کا فوری ظہور نہ ہوا۔پہلاؔ معجزہ جس کو کفّارِ مکّہ نے طلب کیا ہے کہ اَلْاَرْض یعنی اس خاص مکّہ کی زمین میں چشمے چلیں اور دوسرا معجزہ جس کو انہوں نے مانگا ہے۔کہ تیری کھجوروں اور انگوروں کے ایسے باغ ہوں جن میں نہریں چلتی ہوں۔یہ دونوں معجزے اس واسطے طلب کئے گئے۔کہ کتب مقدّسہ بضمن بشارات محمدیہؐ لکھا ہے۔’’ ہاں میں بیابان میں ایک راہ اور صحرا میں ندیاں بناؤں گا۔اور دشت کے بہائم گیدڑ اور شتر مرغ میری تعظیم کریں گے کہ میں بیابان میں پانی اور صحرا میں ندیاں موجود کروں گا۔کہ وہ میرے لوگوں کے میرے برگزیدوں کے پینے کیلئے ہوویں۔مَیں نے ان لوگوں کو اپنے لئے بنایا۔وہ میری ستائش کریں گے۔‘‘(یسعیاہ ۴۳ باب ۱۹۔۲۱ تک) اور دیکھو ’’ کس نے یعقوب کو حوالہ کیا کہ غنیمت ہوویں۔اور اسرائیل کو کہ لیٹروں کے ہاتھ میں پڑے؟ کیا خداوند نے نہیں۔جس کے مخالف ہو کے انہوں نے گناہ کیا۔کیونکہ انہوں نے نہ چاہا کہ اسکی راہوں پر چلیں یسعیاہ۴۲باب آیت۴ ۲اور یسعیاہ باب ۲۱؍آیت۱۴ میں عرب کی بابت الہامی کلام یوں ہیں۔’’ پانی کے پیاسے کا استقبال کرنے آؤ۔اے تیما کی سر زمین کے باشند و! روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو یسعیاہ باب۲۱؍۱۶،۱۷۔’’اور پھر کہا مزدور کے سے ایک ٹھیک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی۔اور تِیراندازوں کے جو باقی رہے۔قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے۔‘‘