حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 544
کی حالت شب و روز آنکھ کے سامنے ہے۔حاجتِ بیان نہیں۔پھر علی العموم تلاوت سے محروم ہیں اگر دُنیا بنصرتِ الہٰی کسی مذہبی کتاب کی حافظ و ناصر ہے تو قرآن کریم اوّل نمبر پر ہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۶۵تا ۶۸) کتاب اﷲ (قرآن) اور سنّت رسول اﷲ (حدیث ) میں بجائے لفظ معجزہ اور خرقِ عادت کے جو نہایت کمزور اور ناقص تھے۔آیت اور بُرھان کا لفظ مستعمل ہوا ہے۔جو دلائل اثباتِ نبوّت اور علامتِ رسالت کے واسطے جامع اور محیط ہونے کے علاوہ ہر زمانے کے موافق اور ہر ایک عقلِ صحیح کے مناسب ہے۔فطرت اور قانون کے نزدیک صحیح ہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۷۰) ٓٓ قرآنِ کریم میں ہرگز ہرگز اختلاف نہیں۔جب قرآن کریم نے بتا دیا کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی صداقت پر ہم نے نشان بھیجے تو ایسا ہرگز ممکن نہ ہو گا کہ قرآن میں یہ بھی لکھا کہ ہم نے نشانِ نبوّت حضرت نبیؐعرب کو نہیں دئے۔کیونکہ ایسا ماننے سے قرآن میں اختلاف ہو جائے گا اور قرآن میں اختلاف نہیں علاوہ بریں کسی قرآنی آیت میں یوں نہیں آیا کہ ہم نے نشاناتِ نبوّت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو نہیں دیئے معجزوں کے انکار پر جن آیات سے سائل اور اس کے کسی ہم خیال عیسائی اور ان کے پیرو آریہ نے استدلال کیا ہے۔اُن آیات پر مفصّل گفتگو تصدیق براہین احمدیہ میں دیکھو اور بقدر ضرورت یہاں عرض ہے۔پہلے وہ آیت جس سے نبیٔ عرب اور محسن تمام خلق صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے منکروں نے دھوکہ کھایا ہے اور جس کا ذکر بہت سننے میں آیا ہے۔یہ ہے۔ (بنی اسرائیل:۶۰) اس آیت شریف سے منکرین نے یقین کیا ہے کہ حضرت نبی عرب پر معجزہ کا ظہور نہیں ہوا۔کیونکہ معنے اس آیت کے یہ سمجھے ہیں کہ پہلوں نے معجزات کو جھٹلایا۔اس واسطے ہم معجزات کے بھیجنے سے رُک گئے مگر یہ ان کا خیال غلط ہے۔اوّل اس لئے کہ معجزات اور آیات کے وجود کا تذکرہ قرآن کریم میں بکثرت موجود ہے اور محمد صاحب صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے معجزات نہ ماننے والوں کو اس لئے کہ ہدایت اور موجود چیز کے منکر ہیں ظالم اور فاسق اور کافر کہا ہے اوراِلَّا کا لفظ جومَامَنَعْنَا آیت میں ہے۔عرب کی زبان میں جن کی بولی پر قرآن کریم ہے۔زائد بھی آتا ہے۔دیکھو ذوالرمّہ کا یہ قول حراجیح ما تَنْقَکُّ ابلَّا منَاخَۃً عَلَی الخفِّ اَوْتَرْمِی یذرقفرا میرے لمبے قد کی اونٹنی ذلیل بیٹھی رہتی ہے۔یا اس پر دُور دراز کے بے آبو و گیاہ میدانوں کا سفر کرتا ہوں۔دیکھو اس تحقیق پر۔اس آیت شریف کے معنی جس کو منکرینِ معجزہ پیش کرتے ہیں۔یہ ہوئے