حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 538
کو اسم مفعول بنا دیتے ہیں یا برعکس نام لیتے ہیں۔مثلاً بہت سیاہ حبشی کا کافور نام رکھ دیتے ہیں۔ہمارے ملک میں بھی ایسا کر لیتے ہیں۔جیسے چلتی کا نام گاڑی۔پس جو بڑا ساحر ہوا سے مسحور کہہ دیتے ہیں۔۳۔مسحور سحری کھانے کو کہتے ہیں۔پس مسحور کے معنے ہوئے۔کھانے والا۔عربی کا شعر سُناتا ہوں۔فَاِن تَسْئَلِیْنَا فِیْمَانَحْنُ فَاِنَّمَا عَصَافِیْر مِنْ ھٰذَالامام المشّحّرِ اس شعر میں مسحّر کے معنے کھانے والے کے ہیں۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو بطور طعن کہتے (مومنون:۳۴) گویا ان کے نزدیک نبی کھانے والا نہیں چاہیئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍فروری ۱۹۱۰ء) ۵۲۔ : بعض کہتے ہیں کہ سر کو اونچا کر کے نیچا یا نیچا کر کے اونچا کرنا۔بے ایمان لوگوں کی عادت ہے کہ حقارت کا اظہار اس طریق پر کرتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍فروری ۱۹۱۰ء) ۵۴۔ : اس پر مجھے ایک حکایت یاد آ گئی۔ایک مولوی ایک مِس کو پڑھایا کرتے۔مِس نے ان پر ایسا اعتبار جمایا کہ اپنی کنجیاں تک ان کے سپرد کر رکھی تھیں۔میں نے انہیں کہا۔ہوشیار رہنا ایک دن بھاگتے میرے پاس آئے۔وجہ دریافت کی تو بتلایا کہ مِس نے مجھ پر اعتراض کیا ہے کہ ھِی