حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 521
سُوْرَۃُ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ مَکِّیَّۃٌ قرآن مجید جو کچھ ہم کو سناتا ہے۔کئی حصّوں پر منقسم ہے۔نماز۔روزہ۔حج۔زکوٰۃ۔نکاح۔طلاق وراثت وغیرہ کے متعلق جو آیات ہیں۔وہ ڈیڑھ سو کے قریب ہیں اور قربیاً ڈیڑھ سو بحذف مکرّرات احادیث ہیں۔پس یہ جو صدہا آیات باقی ہیں۔یہ کس لئے ہیں؟ غزیزان! انسان کو بہت ضرورتیں ہیں۔ایک خدا شناسی ایک خدا کو راضی کرنا۔ایک مخلوق پر شفقت۔غرض اس قسم کی کئی باتیں ہیں جن سے باقی قرآن شریف بھرا ہوا ہے افسوس تو یہ ہے کہ ڈیڑھ سو آیات کے متعلق ہی کل بحثیں رہیں اور پھر ان پر بھی اکثر مسلمانوں کا عمل نہیں۔جیسا کہ عام طور پر مسلمان بے نماز ہیں۔کسی کا مال کھانے میں بعض کو کچھ تامّل نہیں ہوتا۔وراثت کے متعلق تو لڑکیوں کے بارے میں عمل ہی اٹھا دیا ہے حلال کمائی کیلئے کچھ تڑپ نہیں رکھتے۔چہ جائیکہ خدا کا عرفان اسکی رضامندی اور شفقت علی خلق اﷲ کی تڑپ ہو۔یہ سورۃ یہ بتانے کیلئے کہ متّقی کو کیا انعامات ملتے ہیں۔اور فاسق۔شریر۔عہد شکن کو کیا سزا ملتی ہے۔مدینہ میں یہودی تھے اس لئے انکو بیدار کیا۔۲۔ : اﷲ تعالیٰ سمجھاتا ہے۔کہ یہود کو جو بابلیوں اور رومیوں نے تباہ کر دیا۔اس میں اﷲ ظالم نہیں بلکہ اس نے جو کچھ کیا۔اس سے اسکی تنزیہ ثابت ہوتی ہے کہ گندوں سے اس کو پیار نہیں۔: یہاں لوگوں نے معراج کا ذکر کیا ہے۔یہ بہت مناسب ہے کیونکہ معراج ان