حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 506
گواہی دی کہ یہ گیند اس لڑکے کا ہے کیونکہ اس کیلئے ایک شخص نے میرے سامنے امرتسر کے سٹیشن سے خریدا تھا۔مَیں نے کہا۔سچ کہتے ہو۔اُس نے کہا مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے۔تب مَیں نے گیند دوسرے لڑکے کو دلایا۔تھوڑے دن گزرے تو گواہی دینے والا اس لڑکے کیساتھ غالبًا لڑ پڑا تو یہ راز ظاہر ہوا کہ اس نے جھوٹی گواہی دی تھی۔دیکھو اس نے عدل نہ کیا اور ظاہرداری کیلئے خدا کو ناراض کر دیا۔مَیں نے اس لڑکے کو دیکھا ہے۔بڑا خوبصورت تھا۔جان نکل گئی۔بس یہ انجام ہوتا ہے۔یاد رکھو۔ہر بدی کا انجام بُرا ہوتا ہے۔جنابِ الہٰی کا حکم مان لو۔فرماتا ہے عدل کرو۔ہم تماہرے خالق۔ہم تمہارے مالک۔رحمن۔رحیم تمہارے ستّار۔تمہارے عفّار۔ہماری بات ماننے میں مضائقہ! اور اپنے کسی پیارے کی بات ہو تو جان تک حاضر۔یہ عدل نہیں۔اسی طرح مَیں دیکھتا ہوں کہ ہر آفیسر اپنے ماتحت سے چاہتا ہے کہ جان توڑ کر خدمت کرے۔مَیں جو تنخواہ دیتا ہوں تو یہ روپیہ ضائع نہ کرے۔لیکن آپ جس کا نوکر ہے۔اسی کی نوکری میں اگر جان توڑ کر محنت نہیں کرتا تو یہ عدل نہیں۔اس وقت ایک بات یاد آ گئی۔کسی امیر کی چوری ہو گئی۔اور اس چوری کے برآمد کرانے والے کیلئے بڑا انعام مشتَہرہوا۔افسر پولیس نے اپنے ماتحتوں کو بلایا اور کہا۔لو بھئی اب تو عزّت کا معاملہ ہے۔ایک میرا رشتہ دار بھی اس کے ماتحت تھا۔اس نے مجھے بتایا کہ مَیں نے ایسی محنت کی کہ مال برآمد کرا لیا۔مجرموں سے اقرار بھی کروالیا۔اس آفیسر نے سولہ روپے جیب سے نکال کر دیئے کہ لے بیٹا تم یہ لو۔وہ انعام تو خدا جانے کب ملے گا۔پھر ایک مفصل رپورٹ لکھی۔جس میں دکھایا کہ کس طرح اس مقدمہ کی تفتیش مَیں نے محنت سے کی۔اور بعض اوقات اپنی جان کو خطرہ میں ڈالا۔غرض وہ ساری کارگزاری اس غریب کی اپنی کر کے دکھائی اور انعام خود ہضم کر لیا۔بلکہ ترقی کی درخواست دی۔دیکھو عدل کیلئے کتنا زور دیا کہ مَیں نے ایسی محنت کی۔مجھے ترقی ملے۔وہ انعام ملے اور دوسری طرف کسی بے انصافی کی کہ اپنے ماتحت کا حق خود ضبط کر لیا۔رات دن مَیں یہ حال دیکھتا ہوں کہ ایک شخص کے گھر میں بہو آتی ہے۔وہ اسے نہایت حقیر سمجھتا ہے مگر اپنی لڑکی کیلئے ہرگز گوارا نہیں کرتا کہ کوئی اسے میلی آنکھ سے بھی دیکھے۔پہرہ داروں کو دیکھا۔گرام بستر گھر میں موجود۔سردی کے موسم میں سرد ہوا کی پرواہ نہ کرے وہ آدھی رات کو چند ٹکوں کی خاطر خبردار خبردار پکارتا پھرتا ہے۔مگر جن کو خدا نے ہزاروں روپے دئے۔اور عیش و عشرت کے سامان۔وہ اتنا نہیں کر سکتے کہ پچھلی رات اُٹھ کر تہجّد تو درکنار۔استغفار ہی کریں۔یہ عدل نہیں۔پس میرے عزیزو! تم خدا کے معاملہ میں۔مخلوق کے معاملہ میں عدل سے کام لو۔ایک طرف