حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 504 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 504

کام لو۔اور وہ سلوک کسی سے نہ کرو۔جو خود اپنے آپ سے نہیں چاہتے۔اسی طرح جس سے پانچ دس روپے تنخواہ لیتے ہو اسکی فرماں برداری کرتے ہو۔پس جس نے آنکھیں دیں جن سے ہم دیکھتے ہیں۔کان دئے جن سے ہم سُنتے ہیں۔زبان دی جس سے ہم بولتے ہیں۔ناک دیا۔پاؤں دیئے جن سے ہم چلتے ہیں۔عقل فہم۔فراست دی۔اتنے بڑے مُحسن۔اتنے بڑے مربّی۔اتنے بڑے خالق۔رازق کی نافرمانی کریں تو کیا یہ عدل ہے؟ پس مَیں تمہیں بھی چھوٹا سا فقرہ سنانے آیا ہوں۔اور مَیں تمہیں دوسری دفعہ تیسری دفعہ چوتھی دفعہ تاکید کرتا ہوں کہ خدا کے معاملہ میں۔اپنے معاملہ میں۔غیروں کے معاملہ میں عدل سے کام لو۔پھر اس سے ترقی کرو اور مخلوقِ الہٰی سے احسان کے ساتھ پیش آؤ۔اﷲ تعالیٰ کے احسانوں کا مطالعہ کر کے اس کی فرماں برداری میں بڑھو۔حلال روزی کماؤ۔حرام خوری سے نیکی کی توفیق نہیں ملتی۔اور شاہ عبدالقادر صاحب نے بتایا کہ ہم باہر جو تا اتار کر یہ نیت کر لیتے ہیں کہ جو لے جائے اس کیلئے حلال۔چونکہ چور کمبخت کے نصیب میں رزقِ حلال نہیں۔اس لئے اس کو اسے اٹھانے کا موقعہ ہی نہیں ملتا۔غرض اَکّلِ مال بالباطل نہ کرو اور بیویوں کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آؤ۔بیوی بچوں کے جننے اور پالنے میں سخت تکلیف اٹھاتی ہے۔مرد کو اس کا ہزارواں حصّہ بھی اس بارے میں تکلیف نہیں ان کے حقوق کی نگہداشت کرو۔وَ لَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ (البقرۃ:۲۲۹) انکے قصوروں سے چشم پوشی کرو اﷲ تعالیٰ بہتر سے بہتر بدلہ دے گا… اﷲ تعالیٰ بے حیائیوں سے اور ان امور سے جن سے دوسروں کو تکلیف پہنچے اور وہ منع کرے یا شریعت منع کرے اور بغاوت کی راہوں پر چلنے سے منع کرنا چاہتا ہے۔وہ سننا کس کام کا جس کیساتھ عمل نہ ہو۔سُنو! دل کو اس کے ساتھ حاضر کرو۔(الحکم ۷؍۱۴؍جون ۱۹۱۱ء صفحہ۳) اپنی آمدنیوں کے مطابق اپنے اخراجات رکھو۔کیا کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد خراب ہو۔کیا کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی شخص اس کے لڑکے یا لڑکی کو بدی سکھائے۔خراب کرے۔بدکار بنا دے میری بھی لڑکی ہے۔اس وقت میں اپنے آپ کو مخاطب کر رہا ہوں۔جب کوئی یہ نہیں چاہتا تو پھر دوسروں کی اولاد کو جو تمہارے سپرد ہے کیوں خراب ہونے کا موقعہ دیتے ہو۔کیا کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کے ماتحت نافرمان ہوں۔جب یہ نہیں چاہتا۔تو کیوں نافرمانی کرتے ہو! یہ لڑکے جو اپنے آفیسروں استادوں کی نافرمانی کرتے ہیں۔اور طرح طرح کی بدعتیں کرتے ہیں۔اگر یہ صاحبِ اولاد ہوں اور انکی اولاد۔بدی۔نافرمانی کرے تو ان کو معلوم ہو کہ کس قدر دُکھ ہوتا ہے۔جب ہم اپنے ماتحتوں کو اپنا فرماں بردار دیکھنا