حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 503
فرماں بردار بن جاؤ۔اس کے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے متّبع ہو کر دنیا کے تمام گوشوں میں بقدر اپنی طاقت و فہم کے امن و آشتی کے ساتھلَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ پہنچاؤ۔(اخبار بدر یکم دسمبر ۱۹۱۰ء صفحہ۱) : انصاف کرو۔یہ اﷲ کا حکم ہے۔دیکھو کہ تم کسی کو روپیہ دو اور وہ دھوکہ دے کر لے۔کیا تم پسند کرتے ہو کہ کوئی تمہارے ساتھ دھوکہ کرے؟ تم کسی کو ملازم رکھو۔اور وہ سُستی سے کام کرے تو کیا تم پسند کرتے ہو؟ اگر نہیں۔پھر تم دوسروں کے ساتھ کیوں بدی کرتے ہو؟ مَیں نے دیکھا ہے۔سردی کا موسم ہے اور سرد ہوا چل رہی ہے۔بوندا باندی ہو رہی ہے۔ایک مزدور چوکیدار کہتا ہے۔خبردار۔ہوشیار۔وہ باہر پھرتا ہے۔پھر کیسے افسوس اور تعجّب کی بات ہے کہ وہ چند پیسوں کیلئے اتنا محتاط اور اپنے فرض کو ادا کرتا ہے اور ہم خدا کے بے انتہاء فضلوں کو لے کر بھی تہجّد کے لئے نہ اُٹھیں۔پھر کوئی ہمیں گالی دے۔بہتان باندھے۔تو ناپسند کرتے ہیں۔پھر دوسروں پر کیوںبہتان باندھیں؟ دوسروں کے گھر کی فحش باتیں کیوں سنتے ہو؟ پھر تاکید ہے۔: بھائی ہے۔بہن ہے۔چچّا ہے۔ماں باپ اور بیوی کے رشتہ دار۔۔جو بدیاں تمہاری ذات میں ہیں یا دوسروں پر اثر کرتی ہیں۔اُن سے رُکو۔پھر بغاوت سے منع کیا۔بادشاہوں اور حکّام کی مخالفت نہ کرو۔یہ باتیں کیوں سکھاتا ہے۔ تَتَّقُوْنَ۔تم جانتے ہو کہ مَیں کس تکلیف سے آیا ہوں۔اﷲ جانتا ہے کہ امر بالمعروف کیلئے آیا ہوں۔راستہ چلنے کی سکت نہیں پسینہ پسینہ ہو رہا ہوں۔صرف تمہاری بھلائی چاہتا ہوں۔تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا۔جس کیلئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہوں۔وہی بہتر بدلہ دینے والا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے میری طبیعت تو ایسی بنائی ہے کہ تمہارے اُٹھنے اور سلام کا بھی روادار نہیں ہوں۔اﷲ تعالیٰ تمہیں توفیق دے کہ تم متقی بنو۔(آمین) (الحکم ۷؍۱۴؍جون ۱۹۱۱ء صفحہ۶) اس وقت بقائمی ہوش و حواس تمہیں چند باتیں کہتا ہوں۔جو تم میں سے مان لے گا۔اسکا بھَلا ہو گا۔اور جو نہ مانے گا اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انصاف کرو۔تم میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو چاہتا ہے یا پسند کرتا ہے کہ مجھے گالی دے۔یا میری کوئی ہتک کرے یا میرے ننگ و ناموس میں فرق ڈالے یا نقصان کرے یا بدی سے پیش آئے یا تحقیر کرے؟ میرا ملازم سُستی سے کام لے؟ جب تم نہیں چاہتے تو کیا یہ انصاف ہے کہ تم کسی کا مال ضائع کرو یا کسی کی ملازمت میں سُستی کرو یا کسی کو نقصان پہنچاؤ یا کسی کے لڑکے یا لڑکی کو بدنظری سے دیکھو۔تم عدل سے