حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 502
اسے ارکان اربعہ ( توحید۔عدل۔نبوّت۔امامت ) میں شمار کیا ہے۔عدل کیسا اچھا ہے۔اس کا اندازہ شاید تم لوگ نہ کر سکو۔کیونکہ تم میں سے کم ہیں جنہوں نے وہ زمانہ دیکھا جب کہ حکّام کو بھی ننگ و ناموس کا خیال نہ تھا۔رعیّت کے کسی فرد کو یہ معلوم نہ تھا کہ میں کس چیز کا مستحق ہوں اور بادشاہ کس کا۔باپ کا بدلہ نہ صرف بیٹوں سے بلکہ ملک ولوں سے بھی لیا جاتا تھا۔مگر اب امن کا راج ہے اور عدل ہو رہا ہے جس کے لئے اﷲ تعالیٰ کا شکر چاہیئے۔ہر شخص اپنے نفس پر غور کرے کہ وہ نہیں چاہتا کہ میرے بیٹے یا بیٹی کو کوئی دُکھ دے۔یا کوئی ان کے ساتھ بے جا سختی کرے۔پس وہ آپ بھی کیوں کسی کے بیٹے یا بیٹی کو دُکھ دے یا اَکْلِ مال بالباطل کرے یا کسی کی حق تلفی کا مرتکب ہو۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ کہ مومن ہی نہیں ہوتا جب تک اپنے بھائی کیلئے بھی وہی پسند نہیں کرتا جو اپنے لئے کرتا ہے۔ہم اپنے غلام سے جیسا کام لینا چاہتے ہیں۔مناسب ہے۔کہ ہم بھی جس کے نوکر ہیں ویسا ہی کام کریں۔مَیں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے تمام تعلّقات میں۔مخلوق سے ہوں یا خدا سے۔عدل مدّنظر رکھو۔اور میری آرزو ہے کہ مَیں تم میں سے ایسی جماعت دیکھوں جو اﷲ تعالیٰ کی محبتّ ہو۔اﷲ تعالیٰ کے رسول حضرت محمّد صلی اﷲ علیہ وسلم کی متّبع ہو۔قرآن سمجھنے والی ہو۔میرے مولیٰ نے مجھ پر بِلا امتحان اور بغیر میری محنت کے مجھ پر بڑے بڑے فضل کئے ہیں۔اور بغیر میرے مانگے کے بھی مجھے عجیب عجیب انعامات دئے ہیں جن کو مَیں گِن بھی نہیں سکتا۔وہ ہمیشہ میری ضرورتوں کا آپ ہی کفیل ہوا ہے۔وہ مجھے کھانا کھلاتا ہے اور آپ ہی کھلاتا ہے۔وہ مجھے کپڑا پہناتا ہے اور آپ ہی پہناتا ہے۔وہ مجھے آرام دیتا ہے اور آپ ہی آرام دیتا ہے۔اس نے مجھے بہت سے مکانات دئے۔بیوی بچّے دئے۔مخلص اور سچے دوست دئے۔اتنی کتابیں دیں اتنی کتابیں دیں کہ دوسرے کی عقل دیکھ کر ہی چکّر کھا جائے۔پھر مطالعہ کیلئے وقت صحت۔علم اور سامان دیا۔اب میری آرزو ہے ( اور مَیں اپنے مولیٰ پر بڑی بڑی اُمّیدیں رکھتا ہوں کہ وہ یہ آرزو بھی پوری کرے گا)کہ تم میں سے اﷲ کی محبّت رکھنے والے۔اﷲ کے کلام سے پیار کرنے والے محمد رسول اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم سے محبّت رکھنے والے۔محمد صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے کلام سے محبت رکھنے والے۔اﷲ کے فرماں بردار اور اس کے خاتم النبیّین کے سچّے متبع ہوں اور تم میں سے ایک جماعت ہو جو قرآنِ مجید اور سنّتِ نبویؐ پر چلنے والی ہو اور میں دنیا سے رخصت ہوں تو میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور میرا دل ٹھنڈا ہو۔دیکھو میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔نہ تمہارے نذرونیاز کا محتاج ہوں۔میں تو اس بات کا امیدوار بھی نہیں کہ کوئی تم میں سے مجھے سلام بھی کرے۔اگر چاہتا ہوں تو صرف یہی کہ تم اﷲ کے