حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 500 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 500

۹۱۔  اﷲ حکم کرتا ہے عدل کا اور احسان کا اور رشتہ داروں کو دینے کا اور منع کرتا ہے بدکاری کی باتوں اور بُرے کاموں اور بغاوت سے۔تمہیں وعظ کرتا ہے۔تاکہ دھیان کرو۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ ۱۹ دیباچہ) اس رکوع میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلّم کی نبوّت کو تین طور پر ثابت کیا گیا۔یہ سورۃ تمام ہی ثبوتِ نبوّت میں ہے۔مگر اس رکوع میں خصوصیت سے یہ ثبوت دیا ہے۔پہلا ثبوت تو وہ ہے جہاں گزشتہ سے پیوستہ رکوع میں آقا کے دو غلاموں کی مثال دی ہے ایک وہ غلام جو آقا کے حضور دُو بھر ہے۔کوئی کام نہیں کرتا۔جہاں بھیجئے وہاں سے کوئی بھلی بات کر کے واپس نہیں آتا۔دوسرا غلام علیٰ صراطِ مستقیم ہے۔جو خود عملِ صالح کرنے والا ہے۔پھر دوسرے کیلئے اُمِر بالمعروف و ناَہِی عن المنکر بھی ہے۔کیا یہ دونوں مساوی ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔اسی طرح مکّہ میں دو فریق تھے۔ایک فریق کی کارتزاری اور اﷲ تعالیٰ کے احکام کی خدمت اسلام کے رنگ میں اب تک ظاہر ہے۔دوسرے فریق نے خدا کی کوئی بھی خدمت نہ کی بلکہ راست باز کے مقابلہ میں نعمت الہٰیہ کا کفر کر کے ہلاک ہوئے۔: اس ؟آیت پر بزرگوں نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ہمارے امام نے بھی لمبا مضمون لکھا ہے۔الْعَدْلِ : صحابہؓ کے نزدیک عدل کے معنے انصاف ہیں۔اوّل ہم انصاف کر کے دیکھیں کہ بُتوں نے ہماے ساتھ کیا سلوک کیا اور خدا نے کیا کیا۔خدا کے احسانوں کاکچھ ذکر اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ (بقرہ:۱۶۵) کے رکوع میں پڑھو۔کس کس احسان کا ذکرکیا جاوے۔ارضی کارخانہ نہ ہوتا تو ہم اور تم ہی کہاں ہوتے۔پھر ہم کو زندگی دی۔مسلمان بنایا۔آنکھیں دیں اور کان دئے۔قرآن مجید کا وعظ نصیب کیا۔اب اس کے مقابل ہم دیکھیں کہ جو ہمارے مولیٰ نے احسان کئے کسی اَور نے بھی کیے؟ ہرگز نہیں۔اس وقت بے اختیار مُنہ سے نکلتا ہے۔فَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ …