حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 499
نے کہا میری سو اونٹنیاں تمہارے آدمیوں نے پکڑی ہیں وہ واپس بھیج دو۔تب اس بادشاہ نے حقارت کی نظر سے عبدالمطلب کو کہا کہ تمہیں اپنی اونٹنیوں کی فکر لگ رہی ہے اور ہم تمہارے اس مَعْبَد کو تباہ کرنے کیلئے آئے ہیں۔عبدالمطلب نے کہا کیا ہمارا مولیٰ جو ذرّہ ذرّہ کا مالک ہے۔جب یہ معبد اسی کے نام کا ہے۔اور اسی کی طرف منسوب ہے۔وہ اس کی حفاظت نہیں کرے گا؟ اگر وہ اپنے معبد کی خود حفاظت نہیں کرنا چاہتا تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔آخر اس بادشاہ کے لشکر میں خطرناک وباء پڑی اور چیچک کا مرض جو حبشیوں میں عام طور پر پھیل جاتا ہے ان پر حملہ آور ہوا۔اور اوپر سے بارش ہوئی اور اس وادی میں سیلاب آیا بہت سارے لشکری ہلاک ہو گئے۔اور جیسے عام قاعدہ ہے کہ جب کثرت سے مُردے ہو جاتے ہیں اور ان کو جلانے والا اور ،اٹھانے والا نہیں رہتا۔تو ان کو پرندے کھاتے ہیں۔ان موذیوں کو بھی اسی طرح جانوروں نے کھایا۔یہ کوئی پہیلی اور معمّہ نہیں۔تاریخی واقعہ ہے۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۶۲۔۱۶۳) ۸۱۔ : مکّہ میں مسلمانوں کو آرام نہیں تھا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔گھبراؤ نہیں ہم نے تمہارے لئے آرام کے گھر تجویز کر دیئے ہیں۔: اُونٹ کے بالوں کو وَبَر کہتے ہیں بھیڑوں کے بالوں کو صُوف کہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) ۸۴۔ : آپؐ کی سچائی۔ہمّت۔استقلال اور رُعب سے پہچان گئے ہیں کہ یہ نبی ہمارے لئے اﷲ کی نعمت ہے۔مگر اس کا کفر کرتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) ۸۵۔ امتحان کا دن ہر ایک شخص کو ہوشیار کرتا ہے۔امتحان کا دن نزدیک آتا ہے تو امتحان والے چُست ہو جاتے ہیں۔بڑی فکر ہوتی ہے دعائیں کی جاتی ہیں۔جو دعاؤں کے منکر ہیں۔وہ کوششیں کرتے ہیں فرمایا۔تمہارا ایک امتحان ہو گا۔اس امتحان میں سب اکٹھے ہوں گے۔: عتاب عتبہ سے نکلا ہے۔عَتَبَۃ دروازوں کی چوکھٹ کو کہتے ہیں جس پر عتاب ہو وہ عتبہ کے پاس نہیں آ سکتا۔اس واسطے فرمایا۔ان کفّار کو ہم اپنے حضور نہ پھٹکنے دیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) ۸۹۔ : ایک اپنی بدی کا۔ایک دوسرے کو بدی سکھانے کا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) ۹۰۔ : جو انسان کو اﷲ سے ملنے۔اس کی رضامندی و تقرّب کی راہوں۔اخلاقِ فاضلہ معاسرت کی خوبیوں کے بیان میں کافی و مدلّل بیان ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء)