حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 498
(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۲۱۶) ۸۰۔ : یہ مکّی آیات ہیں۔ان میں ایک پیشگوئی ہے کہ عنقریب یہ پرندے منکرین مشرکین۔مکذّبین کا گوشت نوچ نوچ کر کھائیں گے۔اﷲ تعالیٰ ان کو روکے ہوئے ہے۔سورۃ الملک میں بھی اسی کا اشارہ فرمایا ہے۔بلکہ کھول کر سنایا ہے۔اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِ فَوْقَھُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ (الملک:۲۰) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) : یہ پرندے تمہاری لاشوں کے کھانے کیلئے اﷲ نے رکھے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ ۴۶۲۔۴۶۳) کیا وہ ان پرندوں کے حالات پر غور نہیں کرتے جنہیں ہم نے آسمان کی جوّ میں قابو کر رکھا ہے۔ہم نے ہی تو انہیں تھام رکھا ہے ( اور ایک وقت آنے والا ہے کہ انہیں نبی کریمؐ کے دشمنوں کی لاشوں پر چھوڑ دیں گے) مومنوں کیلئے ان باتوں میں نشان ہیں۔یہاں بھی پہلے ایک شریر قوم کا بیان ہیں۔جو بڑی نکتہ چینی کی عادی اور موذی تھی اور اسلام عیب لگاتی تھی۔اور بہت سے اموال جمع کر کے فتح کے گھمنڈ میں مکّہ پر انہوں نے چڑھائی۔یہ ایک حبشیوں کا بادشاہ تھا۔جس نے اسی سال مکّہ معظّمہ پر چڑھائی کی جبکہ حضرت رحمۃ للعالمین نبی کریمؐ پیدا ہوئے۔جب یہ شخص وادیٔ محصّر میں پہنچا۔اس نے عمائد مکّہ کو کہلا بھیجا کہ کسی معزّز آدمی کو بھیجو۔تب اہلِ مکّہ نے عبدالمطلب نامی ایک شخص کو بھیجا جو ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے دادا تھے۔جب عبدالمطلب اس ابرھہ نام بادشاہ کے پاس پہنچے۔وہ مدارات سے پیش آیا۔جب عبدالمطلب چلنے لگے۔اس نے کہا کہ آپ کچھ مانگ لیں۔انہوں