حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 3
ہوتا ہے خصوصًا رزق کے معاملہ میں لیکن متّقی ایسی جگہ سے رزق پاتا ہے کہ کسی کو تو کیا معلوم ہوتا ہے خود اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ (الطّلاق : ۴)پھر انسان بسا اوقات بہت قسم کی تنگیوں میں مبتلا ہوتا ہے۔لیکن اﷲ تعالیٰ متقی کو ہر تنگی سے نجات دیتا ہے جیسے فرمایا: (الطّلاق : ۳ )انسان کی سعادت اور نجات کا انحصار علومِ الہٰیہ پر ہے کیونکہ جب تک کتاب اﷲ کا علم ہی نہ ہو وہ نیکی اور بدی اور احکامِ ربّ العالمین سے آگاہی اور اطلاع کیونکر پا سکتا ہے مگر تقوٰی ایک ایسی کلید ہے کہ کتاب اﷲ کے علوم کے دروازے اسی سے کُھلتے ہیں اور خود اﷲ تعالیٰ متّقی کا معلّم ہو جاتا ہے وَاتَّقُوا اﷲَ وَیُعَلِّمُکُمُ اﷲُ۔انسان اپنے دشمنوں سے کس قدر حیران ہوتا اور اُن سے گھبراتا ہے لیکن متّقی کو کیا خوف۔اس کے دشمن ہلاک ہو جاتے ہیں۔اِنْ تَتَّقُوا اﷲَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اﷲُ : اﷲ تعالیٰ سے دُوری اور بُعد ساری نامُرادیوں اور ناکامیوں کی اصل ہے مگر متّقی کے ساتھ اﷲ تعالیٰ ہوتا ہے۔ (النحل : ۱۲۹)تقوٰی ایسی چیز ہے جو انسان کو اپنے مولیٰ کا محبوب بناتی ہے (توبہ : ۴) تقوٰی کے باعث اﷲ تعالیٰ متّقی کے لئے متکفِّل ہو جاتا ہے اور اس سے ولایت ملتی ہے (الجاثیہ : ۲۰)پھر تقوٰی ایسی چیز ہے کہ دعاؤں کو قبولیت کے لائق بنا دیتا ہے۔ ( المائدہ : ۲۸) بلکہ اس کے ہر فعل میں قبولیّت ہوتی ہے۔غرض تقوٰی جیسی چیز کی طرف توجہ دلائی ہے اور تقوٰی نام ہے اعتقاداتِ صحیحہ۔اقوالِ صادقہ اعمالِ صالحہ علومِ حقّہ۔اخلاقِ فاضلہ ہمّتِ بلند۔شجاعت و استقلال۔عفّت۔حِلم۔قناعت۔صبر کا۔حُسنِ ظن باﷲ تواضع۔صادقوں کے ساتھ ہونے کا۔پس تقوٰی اپنے ربّ کا اختیار کرو۔رَبَّکُمْ میں بتایا ہے کہ وہ تمہیں کمالات بخشنے والا ہے۔ادنٰی حالت سے اعلیٰ حالت تک پہنچانے والا ہے۔اسکے متّقی بنو۔مخلوق کی نظر کا متّقی نہیں۔اگر انسان مخلوق کی نظر میں متّقی ہوتا ہے لیکن آسمان پر اس کا نام متقی نہیں تو یاد رکھو اس کیلئے اﷲ کا فتوٰی ہیمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ …(البقرۃ : ۹) پھر فرمایا :اﷲ تعالیٰ نے تم کو ایک جی سے بنایا اور اسی جنس سے تمہاری بیوی بنائی اور پھر دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کیں۔قرآن شریف سے عمدہ اور نیک اولاد کا پیدا ہوتا اﷲ تعالیٰ کی رضا کا منطوق معلوم ہوتا ہے۔ابراہیم علیہ السلام کی دُعا کو دیکھو۔کہ خدا نے اسے کیسے برومند کیا جس میں صدہا نبی اور رسول آئے حتیٰ کہ خاتم الرُّسل بھی اسی میں ہوئے۔مگر یہ طیّب اور مبارک اولاد کس طرح حاصل