حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 491 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 491

اس آیت کی ابتداء میں حضرت حق سبحانہٗ تعالیٰ نے اپنی ہستی۔اپنی توحید۔اپنے اسماء۔اپنے محامد اور لا انتہاء عجائباتِ قدرت کا اظہار فرمایا ہے اور بعد اس بیان کے جو درحقیقتلَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲَ کے معنوں کا بیان ہے۔اسکے دوسرے جُزو مُحَمَّدٌ رَّسُوْل اﷲ پر بحث کی ہے۔اور بیان کیا ہے کہ کیوں خدا کی طرف سے کوئی مامور ہو کر آتا ہے اور اس کا کیا کام ہوتا ہے۔پھر اس آیت میں بتایا ہے کہ جو شخص مامور من اﷲ اور حجۃ اﷲ ہو کر آتے ہیں وہ بلحاظ زمانہ۔بلحاظ مکان۔عین ضرورت کے وقت آتے ہیں۔اور انکی شناخت کیلئے وہی نشانات ہیں جو اس آیت میں بیان کئے جاتے ہیں۔وہ کیا کام کرتے ہیں۔ان پر کیا اعتراض ہوتے ہیں۔دوسروں کی نسبت اس میں کیا خصوصیت ہوتی ہے۔ان دو آیتوں میں انہی باتوں کا تذکرہ ہے۔ان میں سے پہلی آیتِ شریفہ کا ترجمہ یہ ہے مگر ترجمہ سے پیشتر یہ یاد رکھو کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے انسان کو ممتاز بنایا ہے اور پھر انسانوں میں سے کچھ لائق اور بعض نالائق ہوتے ہیں۔اور اس طرح پر ان میں ایک امتیاز قائم کرتا ہے غرض نبوّت کی ضرورت اور اس کے اصول کے سمجھنے کیلئے اﷲ تعالیٰ اسی آیت میں ایک نہایت ہی عجیب بات سناتا ہے۔مَثَل اعلیٰدرجہ کی عجیب بات کو کہتے ہیں۔غرض اﷲ تعالیٰ ایک عجیب بات اور نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی بات سناتا ہے۔کوئی کسی کا غلام ہے۔وہ عبد جو کسی کا مملوک ہے۔اس کا مالک اس کیلئے بہت سے کام رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اسکا غلام وہ کام کرے مگر غلام کی حالت یہ ہے کہلَا یَقْدِرُ۔جس کام کو کہا جاتا ہے وہ مضائقہ کرتا ہے اور اپنے قول و فعل۔حرکات و سکنات سے بتاتا ہے کہ آقا! یہ تو نہیں ہو سکتا وہ زبان سے کہے یا اعمال سے دکھادے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ میں اس کام کے کرنے کے قابل نہیں اب ایک اور غلام ہے جو کام اس کے سپرد کیا جاوے۔جس خدمت پر اسے مامور کیا جاوے پوری تندہی اور خوش اسلوبی سے اس کو سر انجام دیتا ہے۔جب اسکو کوئی مال دیا جاوے۔تو وہ اس کو کیا کرتا ہے؟ اس مال کو لیتا ہے۔جہاں آقا کا منشاء ہو کہ مخفی طور پر دیا جاوے وہاں مخفی طور پر دیتا ہے اور جہاں مالک کی مرضی ہو کہ ظاہر طور سے دیا