حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 47
حضرت عمرؓ جب شام کو تشریف لے گئے تو حضرت علیؓ کو اپنا خلیفہ ( مقرّر ) کر گئے۔بقول شیعہ اگر علیؓ حضرت عمرؓ کو حق بجانب نہ جانتے تھے تو اب تو عنانِ حکومت انکے ہاتھ میں تھی۔اپنا پور تصرّف کر لیتے۔لیکن ہم یہ تو نہیں کہتے کہ وہ اتنی جرأت کہاں سے لاتے چونکہ وہ سب آپس میں بھائی بنا دیئے گئے تھے اس لئے کوئی فساد کی بات نہ ہوئی اور نہ ان میں سے کسی کے دل میں دغا تھی۔غرضیکہ قرآن پر عمل درآمد کرنے والوں میں بھی اختلاف نہیں ہوا کرتا۔(الحکم ۱۹؍جون ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۷۳) اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی بات امن کی یا خوف کی۔اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اچھا ہوتا اگر لے جاتے اس کو رسول کے پاس یا اپنے میں سے ان لوگوں کے پاس جو بات سے بات نکالتے ہیں۔اور اگر اﷲ کا فضل تم پر نہ ہوتا تو تم سب شیطان کے مطیع ہو جاتے۔اِلَّا قَلِیْلاً : یہ اُورہ عرب ہے۔اس کے معنے ہوا کرتے ہیں۔سب کے سب یعنی جس قدر ہوں۔(الحکم ۱۹؍جون۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۳) وعدہ وعید کی پیشگوئیاں قرآن میں ہیں۔عین مطابق واقعہ ہوئی ہیں۔اِذَا جَآئَھُمْ اُمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ۔قرآن اس طریق کو منع کرتا ہے کہ ہر ایک امن یا خوف کی بات کو سوائے عظیم الشان انسان کے کسی اور تک پہنچایا جاوے۔مسلمان جیسے معاشرت سے ناواقف ہیں ایسے ہی امن کی راہ سے۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍ جولائی ۱۹۰۹ء) ۸۵۔ پس مقابلہ کرو اﷲ کی راہ میں نہیں تکلیف دی جاتی مگر تیری جان کو اور مومنوں کو ترغیب دے۔قریب ہے کہ اﷲ روک دے کافروں کی جنگ۔اﷲ جنگ کرنے میں بہت سخت اور وہ نکیل ڈال کر سیدھا کر دیتا ہے۔(الحکم ۱۹؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷۳) : یہاں سے اس خیال کی تردید ہوئی کہ نبی کریمؐ نے اس وقت جہاد کا حکم دیا جب جتّھا ہو گیا۔دیکھو محض نبی کریمؐ کو قتال کا حکم ہوا۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍ جولائی ۱۹۰۹ء)