حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 485 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 485

۶۲۔   : کس قدر بدکاریاں ہوتی ہیں۔کس قدر بدمعاملگیاں ہوتی ہیں۔کس قدر شرک ہوتا ہے۔اگر ان سب کی سزا میں اﷲ پکڑے تو سب ہی ہلاک ہو جاویں۔جب آدمی ہلاک ہو گئے تو حیوان وغیرہ خود بخود ہی ہلاک ہو گئے۔کیونکہ یہ تو انسان کی خاطر سے ہیں۔: آئے ہوئے وقت کو پیچھے نہیں کر سکتے۔ایک بزرگ کی بات سناتا ہوں۔ان سے کسی نے کہا۔مَیں نے دودھ میں پانی ملا کر بیچا ہے۔مجھے تو بڑا ہی نفع ہوا ہے۔کوئی نقصان نہیں پہنچا۔اس بزرگ نے کہا کہ جتنا پانی تم اب تک مِلا چکے ہو۔اتنا ایک گڑھا کھود کر اس میں پانی ڈالو اور اس میں اُترو۔چنانچہ اس نے ایسا کیا تو اس کے گلے تک آیا۔بزرگ نے فرمایا۔دیکھو ابھی تمہارے ڈوبنے کا وقت نہیں آیا۔غرض بدکار کی بدکاری کی سزا کے لئے بھی ایک وقت ہوتا ہے۔: اور نہ پہلے کر سکتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) ۶۳۔ : لابُدَّ۔ضرور۔چَرَمَ کے معندے کَسَبَ کے بھی کئے ہیں۔پس لاؔ حرف تاکید ہو گا۔مُفْرَطُوْنَ : ظاہر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ افراط سے ہے۔عربی زبان میں فرط اسے کہتے ہیں جو نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا ہے۔اَنَافَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ۔بچْہ فوت ہوتا ہے اس کیلئے دُعا ہوتی ہے۔اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لَنَا فَرَطاً۔ایک فَارِط ہوتا ہے جو آپ جاتا ہے۔اور جو آگے بھیجا جاتا ہے اسے فرط کہتے ہیں۔وَ اسْتَعْجَلُوْنَا وَکَانُوْا مِنْ صَحَا بَتِنَا کَمَا نَعْجَل، مُفْرَطُوْنَ کے معنے ہوئے۔آگے بھیجے گئے۔