حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 482
عَلٰی تخوّف : تَخوّف کے معنے عربی زبان میں گھٹنے کے ہیں۔یعنی ہم تمہیں ایسے گرفتار کریں کہ تم گھٹتے جاؤ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) : ذلیل کر دے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۲) ۵۰۔ سجدہ کا لفظ عرب کی لُغت میں انقیاد اور فرماں برداری کے معنے دیتا ہے۔زید الخیل عرب کا جو ایک مشہور شاعر ایک قوم کی بہادری کا تذکرہ کرتا ہے اور کہتا ہے اس بہادر قوم کے سامنے ٹیلے اور پہاڑ سب سجدہ کرتے ہیں یعنی فرماں بردار ہیں۔ان میں کوئی چیز بھی اس قوم کو روک نہیں سکتی۔بِجَمْعٍ تَضِلُّ الْبَلْقُ فِی حُجُرٰتِہٖ تَرَی الُاکْمَ فِیْھَا سُجَّدً الِلْحَوَافِرٖ وَالسُّجُوْدُ التَّذَلُّلُ وَالْاِنْقِیَادُ بِالسَّعِیْ فِیْ تَحْصِیْلِ مَایَنُوْطُ بِہٖ مَعَاشَھُمْ۔فتح تفسیر مدارک میں ہے۔وَ اذِْ قُلْنَا لِلْمَلٰئِکَۃِ اسْچُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْا۔اَیْ اَخْضَعُوْا لَہٗ وَاَقَرُّوْا بِالْفَضْلِ لَہٗ۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۲۹۔۱۳۰) سجدہ کے معنی تو فرماں برداری کے ہیں۔خود قرآن میں ہے۔وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضرِ … اور اﷲ کی فرماں برداری کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔اور زید الخیل کے قصیدہ میں ہے۔بِجَمْعٍ تَصِّ الْبَلْقُ فِی حُجُرٰتِہٖ تَرَی الْاَکْمَ فِیْھَا تَسْجُدُلِلْحَوَافِرٖ پھر کیا اچھے لوگوں کی خصوصًا ان لوگوں کی فرماں برداری جو اﷲ کی طرف سے خلیفہ، بادشاہ، حکّام رسول ہو کر آتے ہیں شرک ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔