حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 479
۲۷۔ : آریوں کو مکر کے متعلق بہت سے جواب دیئے گئے ہیں۔مگر وہ اپنے سوال کو پیش کئے ہی جاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ بعض الفاظ ملکی حالات کے لحاظ سے خاص معنوں میں لئے جاتے ہیں۔عربی زبان میں مَکْرٌ تدبیرکو کہتے ہیں۔جو دو قسم کی ہیں۔ایکؔ بُری۔دومؔ اچھی۔: یعنی استیصال فرما دیا۔تعلیم اور ذہن نشین کرنے کیلئے اطناب فرمایا۔: ضروری ہے کہ انبیاء علیھم السلام نے جن باتوں سے منع کیا ان سے ابتدائی مرحلہ ہی میں رُک جاویں۔ورنہ عذاب ایسے طور سے آئے گا کہ پتہ بھی نہ لگے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) ۳۲۔ : اس میں بشارت ہے۔پس وہ انعام جو صحابہؓ کی جماعت پر ہوئے۔اب بھی ہو سکتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) ۳۵۔ : کہتے ہیں۔کسی چیز کو ہلکا جاننا۔حقیر ماننا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) یعنی جو کچھ تم کو مصیبت پہنچتی ہے۔سب تمہارے کسب اور اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کل مقدمات دورہ سپرد نہیں۔اور اگر بعض لوگوں کے معاملات سیشن سپرد ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں۔ضمانت کی ضرورت ان ناقص حکام کو ہوتی ہے جن کو در ہوتا ہے کہ ان کا مجرم ان حکام کے تصرّف سے کہیں بھاگ جاوے گا۔باری تعالیٰ کے ملک سے بھاگ کر جانے کی کوئی جگہ نہیں مجرموں میں سے بعض اسی وقت سزا یاب ہو جاتے ہیں اور بعض جوڈیشنل حوالات میں رہتے ہیں یا ان پر عفو ہو جاتا ہے۔ضمانت کی حاجت نہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۷۹-۱۸۰) ۳۶۔