حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 477
ر زمین کے اوپر پہاڑ بنائے اور اس میں برکت رکھی اور اس پر ہر قسم کی کھانے کی چیزیں پیدا کیں۔ایک عجیب نکتہ آپ کو سناتے ہیں۔آپ سے میری مراد سعادتمند ہیں۔جو اس نکتہ سے فائدہ اٹھاویں قرآن کریم میں ایک آیت ہے۔اس کا مطلب ایسا لطیف ہے کہ جس سے یہ تمہارا سوال بھی حل ہو جاوے اور قرآن کی عظمت بھی ظاہر ہو۔غور کرو اس آیت میں۔ (النمل:۸۹)اور تُو پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرتا ہے کہ وہ مضبوط جمے ہوئے اور وہ بادل کی طرح اُڑ رہے ہیں۔یہ اﷲ کی کاریگری قابلِ دید ہے۔جس نے ہر شے کو خوب مضبوط بنایا ہے۔غور کرو یہاں ارشاد فرمایا ہے کہ پہاڑ تمہارے گمان میں ایک جمی ہوئی چیز نظر آتے ہیں اور وہ بادلوں کی طرح چلے جاتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑ زمین کے ساتھ حرکت کرتے ہیں اور یہ کیسا عجیب نکتہ ہے۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۲۰۴ تا صفحہ۲۰۶) ۱۷۔ : قطب۔اسی طرح اَﷲ کے بندے روحانی منازل کے طے کرنے میں قطب کا کام دیتے ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۲) اور النّجم سے وہ راہ پاتے ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۹۱) ۲۱،۲۲۔