حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 476
اچھی طرح ثابت ہو سکتا ہے کہ اس زمین کا ثبات و قرار اضطرابات اور زلازل سے خالق السموات و الارض نے تکوینِ جبال اور خلقِ کوہسار سے ہی فرمایا ہے۔اور زمین کے تپِ لرزہ کو اس علیم و قدیر نے تکوینِ جبال سے تسکین دی ہے چنانچہ علمِ طبقات الارص میں تسلیم کر لیا گیا ہے۔کہ یہ زمین ابتداء میں آتشیں گیس تھی۔جس کی بالائی سطح پر دھواں اور دخان تھا اور اس امر کی تصدیق قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے۔جہاں فرمایا ہے۔( حٰمٰ السجدہ: ۱۲)پھر وہ آتشین مادہ اوپر سے بتدریج سرد ہو کر ایک سیال چیز بن گیا۔جس کی طرف قرآن شریف ان لفظوں میں ارشاد فرماتا ہے۔وَ کَانَ عَرْشُہٗ (ہود:۸)پھر وہ مادہ زیادہ سرد ہو کر اوپر سے سخت اور منجمد ہوتا گیا۔اب بھی جس قدر اس کے عمق کو غور سے دیکھتے جاویں اس کا بالائی حصّہ سرد اور نیچے کا حصّہ گرم ہے۔کوئلوں اور کانوں کے کھودنے والوں نے اپنی مختلف تحقیقات سے یہ نتیجہ نکالا ہے۔گو اس نتیجہ میں فلاسفروں کو اختلاف ہے کہ چھتّیس مائل۱؎ عمق سے اب تک ایک ایسا زوبانی اور ناری مادہ موجود ہے۔جس کی گرمی تصوّر سے بالا ہے ( اسلام نے بھی دوزخ کو نیچے بتلایا ہے۔) جب زمین کی بالائی سطح زیادہ موٹی نہ تھی۔اس وقت زمین کے اس آتشیں سمندر کی موجوں کا کوئی مانع نہ تھا اور اس لئے کہ اس وقت حرارت زیادہ قوی تھی اور حرارت حرکت کا موجب ہوا کرتی ہے۔زمین کی اندرونی موجوں سے بڑے بڑے مواد نکلے۔جن سے پہاڑوں کے سلسلے پیدا ہو گئے۔آخر جب زمین کی اندونی موجوں سے بڑے بڑے مواد نکلے۔جن سے پہاڑوں کے سلسلے پیدا ہو گئے۔آخر جب زمین کی بالائی سطح زیادہ موٹی ہو گئی اور اس کے ثبات و ثقل نے اس آتشی سمندر کی موجوں کو دبا لیا۔تب وہ زمین حیوانات کی بودوباش کے قابل ہو گئی۔اسی واسطے قرآن کریم نے فرمایا ہے اَلْقٰی فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ اوراس کے بعد فرمایاوَ بَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ (البقرۃ:۱۶۵)اَلْقٰی کا لفظ جو آیت اَلْقَی فِی الْاَرْض میں آیا ہے۔اس کے معنی ہیں۔بنایا۔کیونکہ قرآن مجید کی دوسری آیت میں بجائے اَلْقٰی کے جَعَلَ کالفظ آیا ہے۔جس کے صاف معنی ہیں۔بنایا۔اور ان امور کی کیفیت آیہ ذیل سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔۱؎ مِیل (MILE)۔مرتّب وَ جَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِھَا وَ بَارَکَ فِیْھَا وَ قَدَّرَ فِیْھَآ اَقْوَاتَھَا