حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 475
۱۶۔ : مَیْدٌ۔چکر کھانا۔دورانِ سَر کو بھی کہتے ہیں۔ کے معنے ہوئے۔وہ بھی تمہارے ساتھ ہی چکّر کھاتے ہیں۔دوسرے مَیْد کے وہ معنے ہوئے جس سے میدہ کا لفظ نکلا ہے۔جس کو کھاتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳؍فروری۱۹۱۰ء) : لُغت عرب میںمَادَنِیْ یَمِیْدُنِیْ اَطْعَمَنِیْ (مفردات القرآن الراغب)اور مَیدْ کے معنی ہیں ہلنا۔دیکھو۔مَادَیَمِیْدُ مَیْداً وَمَیْدَانًا تَحَرَّکَ (ماموس اللغۃ)مَادَھُمْ اَصَابَھُمْ دُوَارٌ (قاموس)والمائدۃ :الدَّائِرَۃُ مِنَ الْاَرْضِ (قاموس)ان معنوں کے لحاظ سے جومَادَنِیْ یَمِیْدُنِیْ کے کئے گئے ہیں۔اس آیت کے یہ معنے ہوئے کہ رکھے زمین میں یہ پہاڑ کہ کھانا دیں تمہیں۔اور یہ ظاہر بات ہے کہ پہاڑوں کو اﷲ تعالیٰ نے بنایا ہے۔کہ ان میں برفیں پگھلیں۔چشمے جاری ہوں۔ندیاں نکلیں۔پھر ان کے سیل پر اس سطح سے جس میں ریگ ہوتی ہے۔پانی مصفٰی ہو کر کنووں میں آتا ہے۔پھر اس سے کھیت سر سبز ہوتے ہیں۔یہی ایک سلسلہ علاوہ رحمت کے سلسلے کے ہی جو بارانِ رحمتِ الہٰیہ سے ہے۔جس کا ذکر اس کلمہ طیبّہ میں ہے (بقرۃ:۲۳)اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوئے کہ ہم نے زمین پر پہاڑ رکھے کہ چکر کھاتے ہیں ساتھ تمہارے۔یہ الہٰی طاقت کا ذکر ہے کہ اس نے اتنے بڑے مستحکم مضبوط پہاڑوں کو بھی زمین کے ساتھ چکر دے رکھا ہے اور نظامِ ارضی میں کوئی خلل نہیں آتا۔اب کوئی انصاف کرے کہ کن معانی پر اعتراض کی جگہ ہے… ایک نہایت سچّی فلسفی ہے اور اس سخّی فلسفی پر جدیدہ علوم اور حال کے مشاہدات گواہی دیتے ہیں اور انہی مشاہدات سے بھی ہم گزشتہ دیرینہ حوادثات کا علم حاصل کر سکتے ہیں۔طبقات الارض کی تحقیقات اور مشاہدات سے