حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 463
اَلْعَرَبُ تَجْعَلُ الْقَوْلَ عِبَارَۃٌ عَنْ جَمِیْعِ الْاَفْعَالِ۔یعنی قول تمام افعال پر بولا جاتا ہے۔قَالَتْ لَہُ الْعَیْنَانِ سَمْعًا وَّ لَاعَۃً: اسکی آنکھوں نے کہا کہ ہم سنتے اور مانتے ہیں۔قَالُوْا صُدَقَ وَ اَوْمَأُوْا بِرُؤُوْسِھِمْ : صحابہ نے کہا سچ کہتا ہے اور یہ بات سر کے اشارہ سے کہی۔قَالَتِ السَّمَآئُ جَادَتْ وَ انسَکَبَتْ : بادل نے کہا۔کیا معنے ؟ برسا وَ یُقَالُ لِلْمُتَصَوَّرِ فِی النَّفْسِ قَبْلَ التَّلَفُّظِ فَیُقَالُ فِیْ نَفْسِیْ قَوْلٌ لَمْ اَظْھَرْہُ قَالَ اس خیال پر بھی بولا جاتا ہے جو ابھی تلفّظ میں نہیں آیا۔کہا جاتا ہے میرے دل میں بات ہے جس کو میںنے ظاہر نہیں کیا۔وَ الْاِعْتِقَادُ یُقَالُ فُلَانٌ یَقُوْلُ بِقَوْلِ الشَّافِعِّی۔فلانا اعتقاد کرتا ہے شافعی کا اعتقاد۔قول کے معنے اعتقاد کے ہوئے۔وَ یُقَالُ لِلدَّ لَالَۃِ عَلَی الشَّیہئِ عَلَی الْعُمُوْمِ۔دلالت کو بھی قول کہتے ہیں۔اِمْتَلَائَ الْحَوْضُ فَقَالَ قَطْنِی : کہا جاتا ہے حوض جب پانی سے بھرگیا تو اس نے کہا اب بس کرو۔قَالَتْ لَہُ الطَّیْرُ تَقَدَّمْ رَاشِدًا : پرندوں نے اسے کہا۔اقبال مندی سے آگے بڑھو۔غرض جب لفظ قَالَ اتنے بڑے وسیع معنوں پر بولا جاتا ہے۔تو کس قدر ضروی امر ہے کہ ہر موقع و محل کے مناسب اس کے معنے کئے جائیں۔شیطان ایک کافر۔متکبّر۔احکامِ الہٰی سے منکر خبیث رُوح ہے۔حسد و بُغض سے اس نے آدم جیسے راست باز کا مقابلہ کیا اور اس مقابلہ میں اﷲ تعالیٰ کی طرف بھی بدی کو منسوب کیا اور بے باکی سے بدکلامی کی… خلاصہ کلام یہ ہے۔کہ ہم مسلمان نیکی کے محرّک کو ( تم کچھ نام رکھ دو) مَلک یا فرشتہ کہتے ہیں۔اور بدی کے محرّک کو شیطان و ابلیس۔ان معنوں کے لحاظ سے مَلک و ابلیس کا کون منکر ہو سکتا ہے۔یہ پختہ اور یقینی بات ہے کہ جہاں قرآن کریم نے شیطان و ابلیس کا ذکر کیا ہے۔وہاں انہی اُسروں اور بدی کے محرکوں سے مراد ہے۔ان واقعات پر اعتراض کرنا خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت اور اس کے نظام کی نکتہ چینی کر نا ہے۔(نورالدّین صفحہ۸۷ تا صفحہ۹۰)