حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 460 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 460

: ابلیس مر چکا۔اس کی اولاد ہی چلتی ہے۔(تشحیذالاذھان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۲) ۴۰۔  شیطان نے کہا میرے ربّ بسبب اس کے کہ تُو نے مجھے غوی ٹھہرایا مَیں بھلے کر دکھاؤں گا ان کے لئے اور ضرور غوی ٹھہراؤں گا ان سب کو۔غَيَّ مجرّد ہے۔اَغْوٰی اس کے مزید کے معنی ہیں۔اضلال۔اہلاک۔افساد۔نامراد کرنا۔بدمزہ کر دینا۔زندگی کا تلخ کر دینا۔پھر سُن! باری تعالیٰ کی مقدّس باہرکت ذات نے انسان کو استطاعت۔نیک و بَد کی تمیز۔عقل اور فطرت مرحمت فرماکر ہزاروں ہزار انبیاء اور رسول اور کتابیں اور اپنی رضامندی کے اسباب بتا کر دنیامیں ہدایت کو پھیلایا ہے۔اور انبیاء اور ان کے سچّے اتّباع اور فرماں برداروں کی ہمیشہ نصرت اور اعانت فرمائی ہے۔ہاں باستطاعت انسان پر جبر نہیں فرمایا کہ اسکی گردن پکڑکر اس سے نیک اعمال کرائے۔شیطان اور اس کی ذرّیات کے وجود سے یہ فائدہ ہے کہ انسانوں میں فرماں برداروں کو فرماں برداری کی خلعت و عزّت عطا فرماوے۔مگر پھر بھی شیطان کو یہ اختیار نہیں دیا کہ لوگوں کو بجبر گمراہ کرے۔چونکہ انسان بڑے درجات کا طالب تھا۔اور بغیر صدق و صفا انعام نہیں مل سکتا۔اس واسطے دو محرّک نیکی و بدی کے یعنی فرشتہ اور شیطان پیدا کئے۔قانونِ قدرت اس بات پر دلالت کرتا ہے۔سب لوگ اپنے نفس میں دو محرّک محسوس کرتے ہیں۔قاتل پہلے قتل کرتا بھی ہے اور پچھتاتا بھی۔پس واقعی فرشتہ و شیطان کا وجود عالم میں ہے۔اگر وید کامل ہے تو اس میں ضرور یہ فلسفہ ہو گا۔فرق الفاظ میں ہو تو کوئی بات نہیں۔