حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 458
۲۸۔ یہ سچی فلاسفی الہٰی کلام کی ہے۔تمام وہ لوگ جن کے اچھے اعمال نہیں یا ان کے اچھے اعمال کم ہیں وہ دوزخ میں جائیں گے۔دوزخ کی گود میں رہیں گے۔وہی ان کی ماں ہے۔دیکھو قرآن ۔۔۔(القارعۃ:۹ تا ۱۲)بھلا جن کی ماں دوزخ کی گرم آگ ہوئی وہ لُوؤں کی آگ سے نہ بنے ہوں تو پھر کس سے بنیں۔سُنوا سارے شریر شیطان یا شیطان کے فرزند ہیں۔یوحنا ۸ باب ۴۴۔متی ۱۳ باب ۳۹۔متی ۱۶ باب ۲۳جس طر ح شریر شیطان کا فرزند ہے۔اور عیسائی مسیحؑ۔کافرزند۔اُسی طرح دوزخ کی آگ شریر کی ماں ہے اور وہ لوؤں کی آگ سے بنا ہے۔بھلا صاحب جب عام شریروں کی ماں ہاویہ دوزخ ٹھہری تو ان اشرار کا شرارتی آپ شیطان دشمنِ آدم لوؤں سے کیونکر نہ بنا ہو گا۔ضرور وہ ہمارا دشمن نارِ السّموم سے بنا۔وہ تو پہلے ہی سموم نار سے بنا تھا۔اور یہی سچی فلاسفی ہے جس کے خلاف ہر کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۷۹) : تیز لُو کو سَمُوم کہتے ہیں اس کے اندر جو صفت ہے وہ ناری ہے۔جانّ: میں شامل ہیں وہ تمام جاندار جن میں ناری مادہ ہو۔باریک سانپ کو بھی جانّ کہتے ہیں۔طاعون کے کیڑے کو بھی دخن الجنّ فرمایا ہے۔مِرگی کے کیڑے کو بھی جِنّ فرمایا ہے۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے غضب کو بھی آگ فرمایا ہے۔اسی واسطے اس کے اطفاء کیلئے کھڑے کو بیٹھنے پھر لیٹنے اور پانی پینے اور تعوّذ کا حکم ہے۔سیاہ کتّے میں شدید زہر ہوتا ہے اسے ایک جگہ شیطان فرمایا اسی طرح جن لوگوں کو شیطان سے تعلّق ہوتا ہے ان میں بھی خاص تیزیاں ہوتی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۳۰۔