حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 456 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 456

عرب میں جو لوگ کاہن کہلاتے ہیں۔وہ کم کھاتے۔کم سوتے۔کم اختلاط کرتے اور ایک خاص بات کی وقعت رکھتے۔ہمزادوالے بھی انہی میں سے ہیں۔ایسے لوگ اپنے تئیں بہت نجِس رکھتے ہیں۔جنابت میں نہیں نہاتے۔محرماتِ ابدی سے جماع کر لیتے ہیں۔انسان کی کھو پڑی میں کھاتے ہیں انسان کے دانت کی تسبیح رکھتے ہیں۔لوگوں اِسے چھپانے کیلئے چاندی کا کھول چڑھا لیتے ہیں۔اور عبادت کے وقت انان کے چمڑے پر بیٹھتے ہیں۔بلکہ کھانا بھی وہاں پکاتے ہیں جہاں کوئی مُردہ جلایا گیا ہو ایسے تمام لوگ مَیں نے دیکھے ہیں۔اور ان کے اعمال سے واقفیت حاصل کی ہے۔کاہن لوگوں کو جو غیب سے آوازیں آتی ہیں۔ان میں سے بعض باتیں سچی بھی ہوتی ہیں۔مگر کثرت کے ساتھ جھوٹ ہوتا ہے۔یہ غیب بینی کی کوشش کرتے ہیں۔ان میں غور کر کے دیکھا جاوے تو تعجّب آتا ہے۔اور اصل بات تو یہ ہے۔تمام جہان پیس گوئی کرتا ہے۔مثلاً دوست کو لکھ دینا کہ (۱) ہم فلاں بجے تمہارے پاس گاڑی پر پہنچیں گے۔باوجود اندیشہ لیٹ و کولیژن کے۔(۲) کاشت کار کا آئندہ اناج کی اُمید پر بیج بونا باوجود اندیشہ ارضی و سماوی کے۔(۳) ملازم کا کام۔تاجر کا مال منگوانا باامید نفع۔(۵) اشتہار دینا پہلے گھر سے خرچ کر کے۔غرض پیشگوئیوں پر دنیا کا دار و مدار ہے۔ان سب کا معیارِ صداقت کثرت و قلّت پر ہے۔کاہن اسی لئے جھُوٹے ہیں کہ ان کی اکثر باتیں صحیح نہیں نکلتیں۔نبیوں میں بھی کثرت کا اعتبار ہے۔جب خدا کے فعل میں یہ بات پائی جاتی ہے۔قول میں کیوں نہ ہو۔بُرُوج : بُرج کہتے ہیں گول چیز کو۔روشن ستارے جو آسمان میں ہیں ان سے مراد ہے۔بعض کہتے ہیں کہ منازل شمس و قمر مقصود ہیں۔مگر عرب لوگ تو ان باتوں کو نہیں جانتے تھے۔بہر حال ستارے بہت مفید ہیں۔ارض کیلئے۔مگر خبیث لوگ ان سے عجیب عجیب جُزوی اور شخصی احکام نکالتے ہیں۔: کوئی ایک آدھ بات صحیح بھی مستنبط کر لیتے ہیں۔: بات پوری نہیں ہوتی تو آگ سی لگ جاتی ہے جو ان کے تمام