حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 448
: زوال نہیں ہو گا۔یا تمہیں انتقال نہ ہو گا۔اس دنیا سے دارِ آخرت میں نہ جاویں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۴۶۔ : فارسی میں ایک شعر ہے ؎ مجسلے وعظ رفتنت ہوس است مرگ ہمسایہ واعظے تو بس است ہر ایک شہر میں جہاں کوئی آسودہ گھر ہوتا ہے۔اس کے پڑوس میں یا اس کے اوپر چڑھ کر دیکھنے سے کوئی نہ کوئی ویران شدہ مکان یا گھر یا نظارہ ضرور عبرت و نصیحت کیلئے نظر آتا ہے۔یہ نکتہ مجھے میرے ایک استاد نے بتایا تھا جسے مَیں نے اکثر مقام پر صحیح دیکھا… ایک رئیس کو مجھ سے نقار تھا مگر مَیں نے اسے نصیحت کرنی چاہی۔اسکی مجلس میں چلا گیا۔آخر مجھ سے پوچھا۔کیوں آئے؟ میں نے کہا آپ کا ناصح کون ہے؟ میرے تعلّقات تو آپ سے ایسے نہیں ورنہ میں یہ فرض بڑے شوق سے ادا کرتا رہتا۔پھر یہ استاد کا نکتہ سنایا تو اس نے کہا۔جہاں میں بیٹھتا ہوں اس کے سامنے کا محراب ایک بڑے رئیس کا تھا۔اور اس کی گھر والی ہمارے برتن صاف کرتی ہے۔۲۔اس مسجد میں جلسہ کے دنوں میں نماز پڑھنے لگے تو اس پڑوسی نے گالیاں دینی شروع کیں امام ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) نے فرمایا۔شاہی خیمے کے پاس کسی کا مُخل ہونا اپنے پر شامت لانا ہی ہوتا ہے۔یہ مسجد خدا کا شاہی خیمہ ہے۔ایک وقت مَیں نے عرض کیا۔حضور وہ تو فروخت کرتے ہیں۔کہا۔مَیں تو دس روپے کو بھی نہیں لوں گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۴۸۔