حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 447
ِلَّا قَوْلَ اِبْرَاھیْمَ لِاَبِیْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ۔(الممتحنہ:۵) اس جگہ دعا میں آپؑ نے وَالِدَیَّ فرمایا ہے اور یہ آخر عمر کی دُعا ہے۔اور جہاں منع ہے وہاں اَبٌ کا لفظ ہے۔معلوم ہوا اَبٌ سے چچا مراد تھا والد نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۴۳۔ ’’ میں اﷲ دیکھتا ہوں‘‘ یہ اس سورۃ کا ابتداء تھا۔جس کا مطلب یہ تھا۔کہ میں نگران حاکم ہوں خلاف ورزی پر سزا دوں گا۔چنانچہ اس کو کھولتا ہے۔: بے خبر۔: ایک وقت کیلئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۴۴۔ : اھطاع کے معنے ’’ جلدی کرنے ‘‘ کے ہیں اور ’’ ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے‘‘ کے : آنکھ جھپک نہ سکیں گے۔: ’’خالی ہوں گے ‘‘ عربی زبان میں اس دل کو کہتے ہیں جس میں خیر و عقل نہ ہو۔عقل وہ صفت ہے جس سے مومن اپنے تئیں بدیوں سے روکتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۴۵۔ : جب ایک بچے کے سامنے بھی شرمندگی دلانے والا کوئی کام کرنے کی جرأت نہیں ہو سکتی۔تو جہاں اوّلین و آخرین جمع ہوں گے۔وہاں کسی مذامت ہو گی۔اس سے بچنے کا سامان کرو۔