حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 443 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 443

’’… اور کام میں لگا دیئے تمہارے کشتی۔تو چلے سمندر میں اس کے حکم سے اور تمہارے کام میں لگا دیں ندیاں اور کام میں لگا دیا تمہارے لئے سورج اور چاند ایک دستور پر اور کام میں لگا دیا تمہارے لئے رات اور دن کو۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۶۳) : ایک شخص مجھے کہنے لگا کہ آؤ تمہیں تسخیر کا عمل بتا دیں۔مَیں نے کہا کہ مجھے ضرورت نہیں کیونکہ مجھے ایسا عمل یاد ہے کہ جس سے نہ صرف سورج بلکہ چاند اور رات و دن۔نہریں۔سب مسخّر ہوں۔مَیں نے اسے یقین دلایا کہ اس آیتِ کریمہ نے ان تسخیروں سے ہمیں بے پرواہ کر دیا ہے۔: یہ لفظ یاد رکھنے والا ہے۔(جناب سلیمان علیہ السلام کے بیان میں کام دے گا) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۳؍جنوری۱۹۱۰ء) ۳۵۔  رزق ہماری ضرورت سے پہلے پیدا ہوتا ہے۔ہم ابھی ماں کے پیٹ سے باہر نہ آئے تھے کہ چھاتیوں میں دودھ آیا۔جو نمک ہم آج سالن میں کھاتے ہیں وہ مدّت ہوئی کہ کان سے نکل چکا ہے۔پھر وہاں سے بڑے شہروں میں پہنچا۔پھر اس گاؤں کی دکانوں میں آیا۔پھر ہمارے حصّہ کا الگ ہو کر گھر آیا۔پھر ہانڈی میں سب کیلئے تھا۔تو لقمہ کے ساتھ میرے مُنہ میں آیا۔اسی طرح کپڑے کا حال ہے۔غرض کیا کیا احسان ہیں اس مولیٰ کے۔پس مالی شکریہ بھی اُسی کیلئے ہونا چاہیئے۔یہ غلط ہے کہ خدا نے کسی کو مال دینے میں بُخل کیا۔بلکہ اس نے تو فرما دیا ہے پھر اس کے غلط استعمال یا اپنی شامتِ اعمالِ نے لَا تُؤْتُوا السُّفَھَآئَ اَمْوَالَکُمْ کے ماتحت کسی کے لئے اس میں تنگی پیدا کر دی۔(بدر ۳؍مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ۲) میں نے ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا۔مگر خدا کے انعامات کی اتنی برسات میں نے دیکھی کہ شرم سے میرا قلم رُک گیا۔اگر برسات کے قطروں کو گِن سکتا ہے تو خدا کے احسانات کو بھی گِن سکے گا۔چنانچہ خدا نے فرمایا ۔ان احسانات میں سے ایک وحدت بھی ہے۔جس کی نسبت فرماتا ہے کہ اگر ساری زمین سونے چاندی کی بھر کر دے دو۔تو بھی یہ وحدت پیدا نہیں ہو سکتی۔اس کا مَیں نے بھی تجربہ کیا ہے۔ایک زمانہ میں میرے پاس بڑا روپیہ آتا تھا اور مجھے روپے کی محبّت ہرگز نہیں۔مَیں اپنی تعریف نہیں کرتا بلکہ اس کے فضل کا اظہار۔(بدر ۳۰؍دسمبر۱۹۰۹ء صفحہ۳)