حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 42

    قرآن میں یہ بھی دعوٰی کیا گیا ہے کہ اس میں اختلاف اور تناقض نہیں۔پھر کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایسی صریح اور پُر شوکت تعلیم کے خلاف یہ الزام لگایا جائے کہ اس میں شرک کی تعلیم ہے… قرآن کریم انی نسبت دعوٰی کرتا ہے جیسے فرمایا۔ ۔اگر قرآن اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو اس میں بہت اختلاف پاتے۔(نورالدّین ایڈیشن سوم صفحہ ۱۰۳) کے معنی ہیں اگر قرآن جناب الہٰی کی طرف سے نہ ہوتا تو اس میں بڑا اختلاف ہوتا۔بات یہ ہے کہ لمبے چوڑے دعوٰی کرنے والے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔اوّل پاگل اور ظاہر ہے کہ انکے تمام دعاوی صرف مہمل اور نقش بر آب ہوتے ہیں۔انکی دُشمنی اور دوستی کچھ بھی قابلِ اعتماد نہیں ہوتی۔قرآن کریم نے ہی نبی کریم کو اس اتہام سے یُوں بَری فرمایا۔مَآ اَنْتَ بِنِعَمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ وَ اِنَّ لَکَ لَانجْرًا غَیْرَ مَمْتُوْنٍ وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظَیْمٍ فَسَتُبْصِرُوَ ئُبْصِرُوْنَ بِاَیِّکُمُ الْمَفْتُوْنَ۔(القلم:۳تا۷) اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے ربّ کے فضل سے تو مجنون نہیں کیونکہ تُو اعلیٰ اخلاق پر ہے اور مجنون کے اخلاق و فضائل اعلیٰ کیا ادنیٰ درجہ پر بھی نہیں ہوتے۔پھر مجنون تمام دن اور رات میں کوئی کام کرے اس کے کاموں کے کچھ نتائج و ثمراتِ صحیحہ واقعیہ مرتب نہیں ہوا اکرتے اور جو تُو نے کام کئے ہیں انکے نتائج تُو بھی دیکھ سکے گا اور تیرے مخالف بھی دیکھ لیں گے کہ مجُنون کون ہے۔اب غور کرو کہ جا بجا قرآن کریم میں دعوٰی کیا گیا کہ ہم (اﷲ تعالی) رسولوں اور اُس کے ساتھ والوں کی نُصرت و تائید کرتے ہیں اور یہ گروہ ہمیشہ مظفر و منصور ہوتا ہے۔غور کرو جب رسول آئے۔وہ آخر ہمیشہ مُنصور اور انکے مخالف ذلیل اور خوار ہوئے جیسے فرمایا