حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 41
کی اطاعت اﷲکی اطاعت ہے۔دیکھو یہ نہیں کہا کہ بلکہ کہا ہے اسکا باعث یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا حکم تو ماننا ہی تھا اگر انکار ہوتا تو رسولؐ کے حکم کا ہونا تھا اور ممکن تھا کہ اگر لکھا ہوتا تو لوگ رسولؐ اور اس کے احکام کی مطلق پرواہ ہی نہ کرتے۔جیسے کہ اب اس وقت بعض لوگوں کا خیال ہو گیا ہے۔اسی واسطے اﷲ تعالیٰ حکیم علیم و خبیر نے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔جو لوگ احادیث کے مُنکر ہیں انکو چاہیئے کہ اس آیت شریف کے بالمقابل ایک اس مضمون کی آیت قرآن شریف میں سے پیش کریں جس میں اﷲ تعالیٰ نے رسولؐ کی اتباع سے بالکل منع کیا ہو۔اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جو اﷲ تعالیٰ کے احکام ہیں وہ تو اﷲ تعالیٰ کے ہیں ہی۔لیکن جو احکام رسولؐ کے ہیں۔وہ بھی اﷲ تعالیٰ کے ہی ہیں۔خدا تعالیٰ نے جس طرح قرآن شریف کی حفاظت کی ہے اسی طرح تعامل اور حدیث کی بھی کی ہے۔(البدرؔ ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۷) ۸۲۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو فرماں بردار ہیں۔پس جب باہر چلے جاتے ہیں تیرے پاس سے تو جو کچھ تُو کہتا ہے اُسکے خلاف رات کو چھُپ چھُپ کر ایک گروہ کا نا پھُوسی کرتا ہے اور اﷲ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اُسے محفوظ رکھتا ہے۔تُو ان سے اعراض کر لے اور اﷲ پر توکّل کر اور اﷲ ہی کافی کارساز ہے۔(البدرؔ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۷) ۸۳،۸۴۔